May 2, 2026

یوم مئی لبرل ازم سے نیو لبرل ازم تک

 یوم مئی لبرل ازم سے نیو لبرل ازم تک

علی ملک ( ایڈیٹر لیبر نیوز )

————————–

تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو لبرل ازم نے قرونِ وسطیٰ کے فرسودہ نظام کو بدل کر روشن خیالی اور مارکسزم جیسے نئے نظریات کی راہ ہموار کی تھی لیکن آج کا دور پوسٹ ماڈرن ازم  اور نیو لبرل ازم کی لپیٹ میں ہے

فرانسس فوکویاما نے کبھی اسے تاریخ کا اختتام قرار دیا تھا، مگر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران اور موجودہ ماحولیاتی و معاشی چیلنجز نے ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہےآج خود فوکویاما بھی وہ ‘فوکویامسٹ’ نہیں رہے جو وہ پہلے تھے۔

عالمی عدم مساوات رپورٹ 2026 کے مطابق دنیا کی 50 فیصد غریب ترین آبادی کے پاس کل دولت کا صرف 2 فیصد ہے، جبکہ اوپر کے 10 فیصد طبقے کے پاس دنیا کی 75 فیصد ذاتی دولت موجود ہے

پاکستان کی صورتحال اس سے بھی سنگین ہے جہاں ورلڈ بینک کے مطابق غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے

پاکستان بھر کے لیبر محکمے اس سنگین صورتحال میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ معروف ٹریڈ یونین رہنماوں کے مطابق پاکستان کی 8 کروڑ کی افرادی قوت میں سے صنعت اور مالیاتی شعبوں سے وابستہ صرف 5 فیصد صنعتی یونٹس حکومت کی کم از کم اجرت کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں

انہوں نے انکشاف کیا کہ ای او بی آئی  میں رجسٹرڈ 80 لاکھ ورکرز کا دعویٰ 50 فیصد تک مبالغہ آرائی پر مبنی ہے سندھ سوشل سیکیورٹی کا 5 لاکھ ورکرز کی رجسٹریشن کا دعویٰ بھی حقیقت میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ نہیں ہے

پاکستان ایک طرف نیو لبرل ازم کی لہر میں نجکاری اور ڈی ریگولیشن کے پیچھے بھاگ رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کے بانی ممالک اب تحفظ پسندی کی طرف لوٹ رہے ہیں

1992 سے جاری نجکاری کے عمل نے نجی شعبے کے منافعوں میں تو اضافہ کیا، لیکن ملازمین کا معیارِ زندگی پستی کی طرف چلا گیا۔ پی آئی اے کی حالیہ نجکاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو تنازعات کا شکار ہو چکی ہے۔

کراچی میں سیکیورٹی گارڈز روزانہ 12 گھنٹے کام کرنے کے باوجود صرف 16 سے 20 ہزار روپے ماہانہ اجرت حاصل کر پاتے ہیں، جبکہ سال بھر میں انہیں ایک بھی چھٹی میسر نہیں ہوتی

یہی حال خواتین ورکرز کا ہے خاص طور پر گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور ٹیکسٹائل فیکٹری کی مزدوروں کو کم ترین اجرت پر رکھا جاتا ہے۔

دوسری طرف کراچی چیمبر آف کامرس جیسی تنظیمیں محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود نظر آتی ہیں۔

آج کے حالات میں جہاں مزدور یونینز اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں، وہیں عالمی یومِ خواتین جیسے پلیٹ فارمز بھی محنت کش خواتین کے اصل حقوق کے بجائے دیگر نظریات کی نذر ہو چکے ہیں

موجودہ معاشی اور سماجی ڈھانچے نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی غربت اور محنت کشوں کے استحصال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ جواب یہی نظر اتا ہے کرپٹ لیبر بیورو کریسی اور مزدور دشمن سرمایہ دارانہ سوچ

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp