May 2, 2026

بھارت میں محنت کشوں کی اموات میں تشویشناک اضافہ

 بھارت میں محنت کشوں کی اموات میں تشویشناک اضافہ

رپورٹ  ( طیبہ تاثیر ایڈیٹر فارن ڈیسک  )

———

بھارت میں محنت کشوں کی زندگی اور صحت کے حوالے سے ایک ہولناک تصویر سامنے آئی ہے، بھارتی ریاست گجرات جسے صنعتی ترقی کا ماڈل قرار دیا جاتا ہے

وہاں تعمیراتی شعبے سے وابستہ محنت کشوں کی زندگی اور صحت کے حوالے سے ایک ہولناک تصویر سامنے آئی ہے

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں تعمیراتی کاموں کے دوران حادثات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

جس نے حفاظتی انتظامات اور لیبر قوانین کے نفاذ پر بڑے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

گجرات میں گزشتہ برسوں کے دوران تعمیراتی مقامات پر 1,746 سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں بڑی تعداد ان محنت کشوں کی ہے جو اونچی عمارتوں سے گرنے کرنٹ لگنے یا ملبے تلے دبنے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا مستقل معذور ہو گئے

یہ اعداد و شمار صرف ان کیسز پر مبنی ہیں جو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ غیر رسمی شعبے میں ہونے والے سینکڑوں حادثات کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے

حفاظتی آلات کا فقدان اور انتظامی غفلت کے باعث مقامی مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بیشتر تعمیراتی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کی جانب سے مزدوروں کو ضروری حفاظتی آلات جیسے ہیلمٹ، سیفٹی بیلٹ اور بوٹس فراہم نہیں کیے جاتے

اس کے علاوہ کام کی جگہوں پر حفاظتی جالیوں کا نہ ہونا ان حادثات کی بڑی وجہ بنتا ہے رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاست کا لیبر انسپکشن کا نظام انتہائی کمزور ہے جس کی وجہ سے بلڈرز اور کمپنیاں حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی خوف کا شکار نہیں ہوتیں

بھارت میں مزدوروں کا معاشی استحصال اور رجسٹریشن کا مسئلہ سر فہرست ہے گجرات میں تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت مہاجر محنت کشوں پر مشتمل ہے جو دوسرے صوبوں سے روزگار کی تلاش میں یہاں آتے ہیں

ان میں سے ایک بڑی تعداد ‘گجرات بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہے، جس کے باعث حادثے کی صورت میں وہ یا ان کے اہل خانہ کسی بھی قسم کے معاوضے یا طبی امداد کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں

بھارت کے مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر تعمیراتی منصوبے پر ہیلتھ اینڈ سیفٹی’ آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے اور حادثے کی صورت میں ذمہ دار بلڈر کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کی جائے

اس کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کی لازمی رجسٹریشن اور انہیں سوشل سیکیورٹی کے دائرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے

اگر ترقی کی رفتار کو انسانی جانوں پر فوقیت دی جاتی رہی، تو یہ گجرات ماڈل محنت کشوں کے لیے ایک قبرستان ثابت ہوگا

بلند و بالا عمارتوں اور چمکتی سڑکوں کے پیچھے ان محنت کشوں کا لہو شامل ہے جنہیں ریاست اور آجر دونوں نے بھلا دیا ہے۔

عالمی برادری اور آئی ایل او  کے معیارات کے مطابق، جب تک کام کی جگہ کو محفوظ نہیں بنایا جاتا، صنعتی ترقی کے دعوے بے معنی ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp