May 2, 2026

ایران جنگ اور پولیسٹر دھاگے کا بحران

 ایران جنگ اور پولیسٹر دھاگے  کا بحران

رپورٹ ( عبدالقیوم ، گروپ ایڈیٹر )

ایران میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر فوسل فیول تیل و گیس کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے بھارت اور بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف ملبوسات کی تیاری کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ عالمی برانڈز کے لیے سپلائی چین کے تعطل اور مہنگائی کا نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے

 تاہم اس معاشی جنگ کا سب سے دردناک پہلو وہ محنت کش ہیں جن کا روزگار اس بحران کی نذر ہو رہا ہے

بھارت میں پولیسٹر دھاگہ تیار کرنے والے بڑے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرولیم سے حاصل ہونے والے بنیادی خام مال پی ٹی اے اور ایم ای جی کے لیے اب 30 فیصد زائد قیمت ادا کر رہے ہیں

اس اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کی ترسیل میں تعطل اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہے

سورت میں ٹیکسٹائل کے مراکز کی حالتِ زار یہ ہے کہ فیکٹریاں اب ہفتے میں دو دن بند رہنے لگی ہیں۔ رادھے شیام ٹیکسٹائل جیسے اداروں کی پیداوار 10,000 میٹر سے کم ہو کر محض 4,000 میٹر یومیہ رہ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی مارکیٹ میں ملبوسات کی قیمتیں 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، جس سے ڈیمانڈ ڈسٹرکشن یا طلب میں شدید کمی کا خطرہ ہے

اس بحران نے سب سے زیادہ ان تارکین وطن مزدوروں کو متاثر کیا ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے بڑے صنعتی مراکز پر انحصار کرتے ہیں

بندل سلک ملز کے سی ای او اوچل آریا کے مطابق جنگ کی وجہ سے گیس کی قلت اور فیکٹریوں کی بندش نے بہت سے مزدوروں کو گجرات کے ٹیکسٹائل مرکز سورت کو چھوڑ کر واپس اپنے علاقوں میں جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

مزدوروں کے لیے دوہرا عذاب یہ ہے کہ ایک طرف کام کے اوقات کم ہونے سے ان کی اجرتیں گھٹ رہی ہیں، تو دوسری طرف ایندھن مہنگا ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ان کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں

بنگلہ دیش میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں سلائی مشینوں میں استعمال ہونے والے پولیسٹر دھاگے کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مزدوروں کا کام پر آنا جانا بھی مشکل ہو گیا ہے

اگرچہ جیسے بڑے ریٹیلرز نے پیشگی خریداری کے باعث خود کو فی الحال قیمتوں کے جھٹکے سے بچا رکھا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحفظ عارضی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں بنگلہ دیشی سپلائرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے

اگرچہ برانڈز ری سائیکل شدہ پولیسٹر جو پلاسٹک کچرے سے بنتا ہے اس کی طرف منتقل ہو رہے ہیں

لیکن یہ عالمی پیداوار کا صرف 12 فیصد ہے، جو تیل کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے بوجھ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

ووڈ میکنزی کی اینالسٹ برونا اینجل کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید ایک ماہ برقرار رہی تو ریٹیلرز قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے اور صارفین اپنی خریداری میں کٹوتی کر دیں گے

اس کا براہِ راست اثر فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں پر پڑے گا، جنہیں بڑے پیمانے پر جبری برطرفیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

ایران جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاسی تنازعات کا ایندھن صرف ٹینک نہیں جلاتا، بلکہ غریب ممالک کے محنت کشوں کے چولہے بھی ٹھنڈے کر دیتا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp