May 2, 2026

کپاس کے زون میں ذیابیطس ملوں کی بھرمار

 کپاس کے زون میں ذیابیطس ملوں کی بھرمار

رپورٹ : مدثر خان، بیورو چیف لاہور

پاکستان اس وقت ایک عجیب معاشی و طبی تضاد کا شکار ہے ایک طرف انٹرنیشنل ڈائبیٹک فیڈریشن کے مطابق پاکستان بالغ آبادی میں ذیابیطس کے لحاظ سے دنیا کے پہلے تین ممالک میں شامل ہے

 تو دوسری طرف ملک کی معیشت بھی اسی مٹھی بیماری کا شکار نظر آتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی انسولین کے 24 انجیکشنز لگنے کے باوجود معیشت کی حالت سنبھل نہیں رہی بلکہ ہر بار علامات میں صرف عارضی کمی ہی دیکھنے کو ملتی ہے

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن  کے چیئرمین شام لال منگلانی نے ایک تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ پابندی کے باوجود جنوبی پنجاب کے اس علاقے میں جو کپاس کی کاشت کے لیے مخصوص ہے وہاں تین نئی شوگر ملیں لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے پاس پہلے ہی 14 لاکھ ٹن چینی کا اضافی ذخیرہ موجود ہے

شام لال منگلانی کے مطابق شوگر ملوں کی من مانیوں نے ہمیشہ ملک کے تجارتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفید سونے کپاس کو سفید زہر چینی سے بدلا جا رہا ہے

اس غیر منطقی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک بھر میں کپاس صاف کرنے والی 50 فیصد جننگ ملیں بند ہو چکی ہیں، جن میں پنجاب کی 60 فیصد اور سندھ کی 40 فیصد ملیں شامل ہیں۔

کپاس کی پیداوار کے اعداد و شمار ملک کی صنعتی تنزلی کی خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں پی سی جی اے کے سینئر نائب صدر ہریش کمار بتاتے ہیں کہ 2011 میں پاکستان میں کپاس کی ریکارڈ 14.8 ملین گانٹھیں پیدا ہوئی تھیں، لیکن 2025 تک یہ پیداوار گر کر صرف 5.8 ملین گانٹھیں رہ گئی ہے

کپاس کی مقامی پیداوار میں اس بڑے خلا کو پُر کرنے کے لیے پاکستان کو ہر سال تقریباً 2.5 سے 3 ارب ڈالر کی روئی درآمد کرنی پڑتی ہے، یہ درآمدی بل نہ صرف تجارتی خسارے میں اضافے کا سبب بنتا ہے

بلکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کو بھی مہنگا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لے رہی ہے

معاشی اشاریے اور حکومتی دعوے اسٹیٹ بینک اور بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں برآمدات میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی

جبکہ مجموعی تجارتی خسارہ 23 فیصد اضافے کے ساتھ 27.9 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا بیانیہ یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے اور صنعتی پیداوار  میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ماہرین ان دعوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر پر طویل مدتی انحصار خطرناک ہے خاص طور پر جب مشرقِ وسطیٰ جنگ کی آگ میں جل رہا ہو

دوسری طرف اسٹیٹ بینک نے 27 اپریل کو شرحِ سود میں مزید 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ معاشی استحکام ابھی دور کی بات ہے

کاٹن جنرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کپاس کی کاشت کے لیے زوننگ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور ان مخصوص علاقوں میں گنے یا چاول کی کاشت پر پابندی لگائی جائے

کیونکہ یہ فصلیں پانی کے ذخائر کو بھی تیزی سے ختم کر رہی ہیں

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر پاکستان کو مستحکم ترقی چاہیے تو کم از کم 10 سالہ مستقل برآمدی پالیسی بنانا ہوگی ورنہ ذیابیطس زدہ معیشت کو آئی ایم ایف کے انجیکشنز بھی سہارا نہیں دے سکیں گے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp