یوم مئی جلسہ، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور بلوچستان لیبر فیڈریشن کا لیونگ ویج کا مطالبہ
یکم مئی دن یا محض ایک رسم؟
میر شکر خان رئیسانی
——————–
یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر آج یہ سوال ہر ذہن میں دستک دے رہا ہے کہ کیا یہ دن واقعی مزدور کے دکھ درد کا مداوا کرتا ہے یا محض تقاریر، اخباری بیانات اور روایتی جلسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟
یہ دن ہمیں شکاگو کے ان جاں نثاروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے لہو سے حقوق کی شمع روشن کی تھی، لیکن آج کا مزدور اسی تاریخی جدوجہد کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کے لیے ترستا نظر آتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں مزدور طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ فیکٹریوں، تپتے ہوئے کھیتوں، تعمیراتی منصوبوں اور چھوٹے کاروباروں میں خون پسینہ ایک کرنے والے یہی محنت کش ملکی ترقی کا اصل پہیہ چلاتے ہیں
مگر المیہ یہ ہے کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ معاشی اور سماجی استحصال کی چکی میں پس رہا ہے۔ کم اجرت، آٹھ گھنٹے کے بجائے طویل اوقاتِ کار، کام کا غیر محفوظ ماحول اور سوشل سیکیورٹی کی عدم فراہمی وہ دیرینہ مسائل ہیں جو آج بھی مزدور کا مقدر بنے ہوئے ہیں۔
یکم مئی ہمیں اس تلخ حقیقت پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کیوں آج بھی مزدور اپنے جائز حقوق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے؟ کیا ہمارے پاس قوانین کی کمی ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے
پاکستان میں لیبر قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبری مشقت کے خلاف قوانین ہوں یا کم از کم اجرت کا معاملہ، بااثر طبقہ اور کمزور انتظامی گرفت کی وجہ سے مزدور ہمیشہ انصاف سے محروم رہتا ہے۔
صرف نعروں سے مزدور کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت، نجی ادارے اور معاشرہ مل کر عملی اقدامات کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
حکومتِ وقت کم از کم اجرت کے نفاذ کو ہر صورت یقینی بنائے صنعتی اداروں میں کام کا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں انسانی جان کا زیاں نہ ہو محنت کشوں اور ان کے بچوں کے لیے صحت اور معیاری تعلیم کی سہولیات تک رسائی کو آسان بنایا جائے
اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں میں اپنے قانونی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ کسی بھی فورم پر اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی پر آواز بلند کر سکیں
جب تک مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ اور سماجی تحفظ نہیں ملے گا، تب تک یکم مئی محض ایک رسمی چھٹی اور تقاریب کا دن ہی رہے گا۔ ملکی ترقی کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوگا جب معیشت کا یہ پہیہ چلانے والا ہاتھ مضبوط اور خوشحال ہوگا
تعارف: میر شکر خان رئیسانی بلوچستان کے ممتاز مزدور رہنما اور محنت کشوں کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ وہ اس وقت ملی لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے صوبے کے ہزاروں مزدوروں کی نمائندگی کر رہے ہیں بلوچستان میں مزدوروں کے حقوق، خاص طور پر کم از کم اجرت کے نفاذ اور کام کے محفوظ ماحول کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہتے ہیں اکثر حکومت اور نجی اداروں پر لیبر قوانین کے مکمل عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں
