May 2, 2026

بیلجیئم میں محنت کشوں  کا بحران؛ کیا تارکینِ وطن معیشت کو سہارا دے سکیں گے؟

 بیلجیئم میں محنت کشوں  کا بحران؛ کیا تارکینِ وطن معیشت کو سہارا دے سکیں گے؟

رپورٹ : ممتاز اعوان ( ہیڈ لیبر نیوز یورپ پیسیفک )

یورپ کی اہم معیشتوں میں سے ایک بیلجیئم اس وقت ایک سنگین معاشی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے جس نے ملکی صنعتی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یورپی مائیگریشن نیٹ ورک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کی لیبر مارکیٹ میں مقامی ہنر مندوں کی اتنی شدید کمی ہو چکی ہے کہ اب معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے لیبر مائیگریشن مزدوروں کی ہجرت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے

افرادی قوت کی قلت اور متاثرہ شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بیلجیئم میں انجینئرنگ، آئی ٹی، ہیلتھ کیئر اور تعمیراتی شعبوں میں اسامیوں کو پُر کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے

اسپتالوں میں نرسوں اور ڈاکٹروں کی کمی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہرین نہ ہونے کی وجہ سے کئی منصوبے تعطل کا شکار ہیں یہ بحران محض کسی ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں یکساں طور پر محسوس کیا جا رہا ہے

بیلجیئم کی وفاقی اور علاقائی حکومتیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے اب غیر یورپی ممالک تھرڈ کنٹری نیشنلزسے محنت کشوں کو بلانے پر غور کر رہی ہیں موجودہ امیگریشن قوانین اور ورک پرمٹ کے پیچیدہ طریقہ کار کو آسان بنانا ناگزیر ہے

ماضی میں بیلجیئم کا ویزہ حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب ٹیلنٹ کی تلاش کی خاطر ان رکاوٹوں کو کم کرنے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں

ویزہ درخواستوں کے عمل کو ڈیجیٹل کیا جائے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے ہنر مند افراد کو مہینوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ ایسے تارکینِ وطن جو پہلے ہی بیلجیئم میں موجود ہیں لیکن ان کے پاس کام کرنے کی اجازت نہیں، انہیں بھی مخصوص شرائط کے تحت لیبر مارکیٹ کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے

اگرچہ معاشی ماہرین لیبر مائیگریشن کو واحد حل قرار دے رہے ہیں، لیکن بیلجیئم میں اس حوالے سے سیاسی بحث بھی تیز ہو گئی ہے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد سے مقامی سماجی ڈھانچے پر دباؤ بڑھے گا

جبکہ افرادی قوت کی کمی دور نہ ہوئی تو ملکی جی ڈی پی میں نمایاں کمی آسکتی ہے اور کئی مقامی صنعتیں دیوالیہ ہو سکتی ہیں

مستقبل کا منظر نامے میں بیلجیئم کے لیے یہ ایک ویک اپ کال ہے ماہرین کے مطابق اگر بیلجیئم نے بروقت اپنی لیبر پالیسیوں کو عالمی ضرورت کے مطابق نہ ڈھالا، تو وہ اپنے پڑوسی ممالک جیسے جرمنی اور ہالینڈ کے مقابلے میں معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا

جو پہلے ہی غیر ملکی محنت کشوں کے لیے اپنے دروازے کھول چکے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آج کے دور میں کوئی بھی ملک عالمی افرادی قوت کے تعاون کے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp