May 2, 2026

کراچی کی بندرگاہ محنت کشوں کے لیے روزگار کی نوید

 کراچی کی بندرگاہ محنت کشوں کے لیے روزگار کی نوید

رپورٹ ( حسن خان، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے خدشات اور ایران و امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں چھائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، پاکستان کی سمندری تجارتی گزرگاہیں غیر معمولی طور پر متحرک ہیں۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ  اور پورٹ قاسم اتھارٹی پر تجارتی سرگرمیاں نہ صرف معمول کے مطابق جاری ہیں بلکہ حالیہ اعداد و شمار ملک کی معاشی بقا کے لیے ایک مثبت اشارہ دے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران کراچی کی دونوں بڑی بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 179,335 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا۔ اس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کا حصہ 142,182 میٹرک ٹن رہا، جبکہ پورٹ قاسم نے 37,153 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کیا۔

عالمی سطح پر سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے برعکس ان بندرگاہوں پر جہازوں کی آمد و رفت اور سامان کی لوڈنگ و ان لوڈنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے

بندرگاہوں کی یہ سرگرمی خاص طور پر توانائی کے شعبے کے لیے اہم ہے پورٹ قاسم پر اس وقت کوئلے کے پانچ بڑے جہاز موجود ہیں جو موزمبیق، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ سے 270,000 میٹرک ٹن سے زائد کوئلہ لے کر آئے ہیں

اسی طرح، خام تیل، پیٹرول (موگاس) اور ہائی سلفر فیول آئل کی بڑی کھیپوں کی آمد نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

بندرگاہوں پر جاری اس گہما گہمی کا سب سے روشن پہلو وہ ہزاروں محنت کش ہیں جن کا چولہا ان جہازوں کی آمد سے جڑا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، جب بندرگاہ پر ایک بڑا جہاز لنگر انداز ہوتا ہے، تو یہ صرف سامان کی ترسیل نہیں بلکہ روزگار کا ایک وسیع سلسلہ لے کر آتا ہے

ڈاک لیبر کنٹینرائزڈ کارگو اور بلک کارگو جیسے سیمنٹ کلنکر اور چاول کی ہینڈلنگ کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں سٹیوڈورز اور دہاڑی دار مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہےجبکہ 179,000 ٹن سے زائد کارگو کو بندرگاہ سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کرنے کے لیے ہزاروں محنت کشوں کو کام مل رہا ہے

سویا بین سیڈ اور اناج جیسی اشیاء کی ہینڈلنگ سے خوردنی تیل اور لائیو اسٹاک انڈسٹری سے وابستہ مزدوروں کا روزگار بھی محفوظ ہوتا ہے۔

کراچی پورٹ پر 80,000 ٹن سے زائد کنٹینرز اور برآمدات کے لیے 32,000 ٹن سے زائد سیمنٹ کلنکر کی لوڈنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی برآمدی صنعت کے پہیے کو متحرک رکھنے میں بندرگاہ کے محنت کش صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں

اگرچہ بیرونی لنگرگاہ  پر لائبیریا، سنگاپور اور پاناما سمیت کئی ممالک کے 13 جہاز اپنی باری کے منتظر ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے تیز رفتار ہینڈلنگ نے بحران کے اثرات کو کم کر دیا ہے۔

 ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی تجارتی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے، پاکستان کی بندرگاہوں کا فعال ہونا ملکی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے

بندرگاہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تجارتی جہازوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے تاکہ محنت کشوں کا روزگار متاثر نہ ہو اور ملک میں ضروری اشیاء کی قلت پیدا نہ ہو۔ یہ سرگرمیاں ثابت کرتی ہیں کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان کا سمندری تجارتی شعبہ مضبوطی سے سر بلند ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp