May 2, 2026

ایران میں یومِ مئی ، محنت کشوں کے سنگین معاشی و جانی خطرات

 ایران میں یومِ مئی ، محنت کشوں کے سنگین معاشی و جانی خطرات

رپورٹ ( علی مقدس، نمائندہ لیبر نیوز ایران )

یکم مئی کو جہاں دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، وہیں ایران میں محنت کش طبقہ اجرتوں میں کمی، کام کی جگہوں پر عدم تحفظ اور ٹریڈ یونین بنانے کے حق پر قدغن جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے

 گزشتہ ایک سال مئی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ایران میں مزدوروں کے حالات انتہائی تشویشناک رہے ہیں۔

اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلام ہوتا ہے کہ  گزشتہ 12 ماہ میں کام کے دوران پیش آنے والے حادثات میں کم از کم 5,019 مزدور ہلاک یا زخمی ہوئے ان میں سے 586 محنت کش اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں سے 302 اموات ایسی تھیں جنہیں سرکاری سطح پر رپورٹ ہی نہیں کیا گیا اسی طرح 4,433 مزدور زخمی ہوئے

حادثات کی بڑی وجوہات میں تعمیراتی کام (20.28%)، بلندی سے گرنا (15.91%) اور کان کنی کے واقعات (7.69%) شامل ہیں۔ ایران میں حفاظتی ڈھانچے کی کمزوری اور انسپکٹرز کی کمی ان جانی نقصانات کی بنیادی وجہ بتائی گئی ہے

ایرانی مزدوروں کو شدید معاشی استحصال کا سامنا ہے سپریم لیبر کونسل کے مطابق ایک مزدور گھرانے کے ماہانہ اخراجات 40 سے 45 ملین تومان تک پہنچ چکے ہیں جبکہ کم از کم اجرت محض 15 ملین تومان ہے

رہائشی الاؤنس صرف 9 لاکھ تومان ہے جبکہ اکثر صورتوں میں مزدور کی پوری تنخواہ گھر کے کرایے میں چلی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 119 صنعتی یونٹس میں 613 ماہ کی تنخواہیں واجب الادا ہیں، جن میں سے 51 فیصد سرکاری اداروں سے متعلق ہیں

مزدور حقوق کی پامالی کے خلاف ایران بھر میں 682 لیبر اجتماعات اور 383 ہڑتالیں ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم، آزادانہ تنظیم سازی پر پابندی اور ریاستی جبر کے باعث مزدور رہنماؤں کو سخت سزاؤں کا سامنا ہے

گزشتہ ایک سال میں کم از کم 10 مزدور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ درجنوں اساتذہ اور یونین کارکنوں کو قید، جرمانے اور کوڑوں کی سزائیں سنائی گئیں۔ شریفه محمدی اور مہران رؤف جیسے ممتاز کارکن اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں

خواتین مزدوروں کے حالات مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ابتر ہیں۔ انہیں نہ صرف قانونی تحفظ کم حاصل ہے بلکہ صنعتی یونٹس شادی شدہ خواتین کو ملازمت دینے سے کتراتے ہیں۔ چھوٹی ورکشاپس اور اینٹوں کے بھٹوں میں خواتین انتہائی کٹھن حالات میں کام کر رہی ہیں۔

ایران میں نجکاری کے عمل اور مزدور دشمن پالیسیوں نے محنت کشوں کو بھوک اور بے یقینی کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے، جہاں ڈبل شفٹ کام کرنے کے باوجود وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے سے قاصر ہیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp