یوم مئی جلسہ، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور بلوچستان لیبر فیڈریشن کا لیونگ ویج کا مطالبہ
یومِ مئی سرمایہ دارانہ جبر کی چکی میں پستا ہوا مزدور
قاضی تحسین احمد ہاشمی
———————-
مزدور کے ماتھے پر محنت کا پسینہ ہے ہر قطرہ ہے ایک موتی ہر بوند نگینہ ہے لیکن افسوس کہ آج اس موتی کی قدر کرنے والا کوئی نہیں
حکیم الامت علامہ اقبال نے برسوں پہلے دہقان کی بدحالی پر کہا تھا کہ جس کھیت سے کسان کو روٹی میسر نہ ہو اس کے ہر خوشہ گندم کو جلا دینا چاہیے مگر آج کا محنت کش اس آگ میں خود جل رہا ہے.
یکم مئی پوری دنیا میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کی کڑیاں 1886 میں شکاگو کے ان جاں نثاروں سے ملتی ہیں جنہوں نے اپنے حقوق کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے
آج دنیا بھر کے مزدور ان قربانیوں کو یاد کر کے جوش و خروش سے ریلیاں نکالتے ہیں، لیکن کیا صرف نعروں اور ایک دن کی چھٹی سے مزدور کا استحصال ختم ہو گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ آٹھ گھنٹے مزدوری کا عالمی قانون صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے. آج بھی حکومت کی ناک کے نیچے جبری مشقت اور بچوں سے مزدوری کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے
حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ 32 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا، بلکہ کٹوتیوں کے بہانے مزدور کو 20 سے 25 ہزار روپے تھما دیے جاتے ہیں اور اس سے 8 کے بجائے 12، 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے
آج کا سرمایہ دار مزدور دوستی کی آڑ میں چند زر خرید لیڈروں کے ساتھ مل کر پاکٹ یونینز بناتا ہے، جو حقیقت میں مزدور کی نہیں بلکہ مالک کی وفادار ہوتی ہیں. اسی طرح سیاسی جماعتوں کے زیرِ اثر اسٹریٹ یونینز کا کام بھی صرف اپنی پارٹی کے مفادات کا تحفظ ہے
ان کا عام مزدور کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں. مزدور کو تو اپنی روٹی سے فرصت نہیں ملتی، اسے محض ایک دن کی چھٹی دے کر تفریح کا سامان مہیا کیا جاتا ہے اور اس کے نام پر سیاسی دکانیں چمکائی جاتی ہیں.
آج کے اس شدید مہنگائی کے دور میں، جہاں سرمایہ دار اپنی تجوریاں بھر رہا ہے، مزدور کا جینا محال ہو چکا ہے.
مزدور طبقے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی کارخانہ، ادارہ یا ملک ان کے بغیر نہیں چل سکتا. جتنی ضرورت آج مزدور اتحاد کی ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی.
اگر محنت کش اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھیں اور اپنی جدوجہد کو کسی مصلحت کے بغیر جاری رکھیں، تو کامیابی ان کے قدم چومے گی. یاد رکھیں، مزدور کا اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو ظلم کی اس چکی کو روک سکتی ہے.
پاکستان زندہ باد، مزدور اتحاد پائندہ باد!
