May 2, 2026

یومِ مئی  مزدور دشمن لیبر کوڈ اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ

 یومِ مئی  مزدور دشمن لیبر کوڈ اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ

محمد اسلم عباسی

—————-

: آج یکم مئی 2026 کے موقع پر میں پاکستان کے مزدور رہنماؤں، سیاسی قائدین اور سول سوسائٹی کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مخلص رہنما نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، اسے سرمایہ دار، جاگیردار اور مفاد پرست سیاسی طبقے کے مثلث نے مراعات کے لالچ یا ریاستی اثر و رسوخ کے ذریعے دبانے کی بھرپور کوشش کی ہے

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو انجمن سازی کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل 3 ریاست کو ہر قسم کے استحصال کے خاتمے کا پابند بناتا ہے، مگر حقیقت میں ہمارے اپنے اوزار ہی ہماری گردنیں کاٹنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں

 ہماری اسمبلیوں میں مزدوروں کی حقیقی نمائندگی کا فقدان ہے وہاں وہی طبقہ بیٹھا ہے جو مزدور کے ووٹوں سے منتخب ہو کر مزدور کے ہی خلاف قانون سازی کرتا ہے۔

جب حکمران طبقے اور بیوروکریسی کی مراعات بڑھانی ہوں تو معاشی بحران آڑے نہیں آتا، لیکن محنت کش کی اجرت میں معمولی اضافے پر خزانہ خالی ہونے کا واویلا مچایا جاتا ہے، جو آرٹیکل 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے

موجودہ دور میں لیبر کوڈ کے نام پر لائی جانے والی اصلاحات درحقیقت محنت کشوں کو مزید زنجیروں میں جکڑنے کا ایک منصوبہ ہیں۔

یہ نیا کوڈ بین الاقوامی لیبر کنونشنز (ILO 87 & 98) کے تحت ملنے والے آزادیِ اظہار اور اجتماعی سودے کاری کے حقوق پر قدغن لگا رہا ہے۔ میں تمام ٹریڈ یونین رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس کالے قانون کے خلاف متحد ہو جائیں

پاکستان کی 98 فیصد آبادی اسی محنت کش طبقے پر مشتمل ہے جو معیشت کی “ریڑھ کی ہڈی” ہے۔ اگر اس ہڈی کو توڑنے والے قوانین بنائے جائیں گے تو ہم انہیں تسلیم نہیں کریں گے

مہران ورکرز یونین کے پلیٹ فارم سے میرے مطالبات درج ذیل ہیں مجوزہ لیبر کوڈ پر حقیقی ٹریڈ یونینز کی مشاورت سے فوری نظرِ ثانی کی جائے مزدور کی کم از کم اجرت کو مہنگائی اور سرکاری افسران کی مراعات کے تناسب سے طے کیا جائے

اسمبلیوں میں مزدوروں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جائیں تاکہ وہ اپنے حقوق کی جنگ خود لڑ سکیں وقت آ گیا ہے کہ اس 98 فیصد مظلوم طبقے کے حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

تعارف : محمد اسلم عباسی مہران ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ہیں وہ اپنی تحاریر میں نتظامی گتھی کو سلجھاتے ہوئے کئی ایسے عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں کن سے مزدروں کے مسائل کے حل کا راستہ کھلتا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp