یوم مئی جلسہ، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور بلوچستان لیبر فیڈریشن کا لیونگ ویج کا مطالبہ
چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگانے کا خواہشمند
رپورٹ ( حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے گوانگژو میں پاکستانی قونصل خانے میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی تقریب میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایف پی سی سی آئی اور گوانگژو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد نہ صرف دوطرفہ تجارت کو بڑھانا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے نئے شعبوں میں تعاون کو بھی مستحکم کرنا ہے
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں اور گوانگژو چیمبر کے چیئرمین رچرڈ وو نے اس دستاویز پر دستخط کیے اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت دونوں اداروں کے درمیان آربیٹریشن ڈیسک کا قیام ہے
یہ ڈیسک دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان پیدا ہونے والے ممکنہ تجارتی تنازعات کو قانونی پیچیدگیوں کے بغیر فوری اور موثر طریقے سے حل کرنے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے گا۔
ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا سب سے قابلِ اعتماد معاشی شراکت دار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی تعاون کے ذریعے چین کے عالمی ترقی کے وژن کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس معاہدے سے تجارتی رکاوٹیں دور کرنے میں مدد ملے گی
گوانگژو چیمبر کے چیئرمین رچرڈ وو نے انکشاف کیا کہ چینی کمپنیاں اب محض تجارت تک محدود نہیں رہنا چاہتیں بلکہ وہ پاکستان میں اپنی صنعتیں لگانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے تین اہم شعبوں کو سرمایہ کاری کے لیے ہائی الرٹ قرار دیا ہے جس میں شمسی اور بادی توانائی کے منصوبوں میں تعاون سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور ڈیجیٹل سروسز، زراعت جیسے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ پراسیسنگ شامل ہیں
معاہدے کے فوری ثمر کے طور پر رچرڈ وو نے اعلان کیا کہ 9 اور 10 مئی کو لاہور میں پہلی بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں ہوم اپلائنسز، برقی آلات، صنعتی سازوسامان اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ چینی سرمایہ کار براہِ راست پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کریں گے
ماہرین کا خیال ہے کہ اس کانفرنس سے پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے۔
اس نوعیت کے معاہدے پاکستان کے صنعتی شعبے اور محنت کشوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جب چینی ادارے پاکستان میں صنعتیں منتقل کریں گے تو اس سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستانی مزدوروں کو جدید چینی ٹیکنالوجی سیکھنے کا موقع بھی ملے گا
خاص طور پر لاہور کانفرنس کے نتیجے میں اگر ہوم اپلائنسز اور صنعتی مشینری کے کارخانے پاکستان میں لگتے ہیں، تو اس سے مقامی سپلائی چین متحرک ہوگی اور ملک کے بڑے صنعتی شہروں میں ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے وسیع تر امکانات پیدا ہوں گے
قونصل جنرل سردار محمد اور تجارتی اتاشی محمد عمران نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے اور معاشی استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی
