پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
لیبر رپورٹ 2025-2026 جاری، جرمنی میں محنت کشوں کی شدید قلت برقرار
رپورٹ ( مہوش ظفر، نمائندہ لیبرنیوز جرمنی )
یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت جرمنی اس وقت ایک سنگین اور گہرےٹرینڈ کی زد میں ہے، جہاں ہنرمند افرادی قوت کی مستقل کمی نے صنعتی اور تجارتی ترقی کی رفتار کو بریک لگا دیے ہیں
جرمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اسکلڈ لیبر رپورٹ 2025-2026 میں یہ تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ جرمنی میں افرادی قوت کا بحران بدستور برقرار ہے
جس کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ اربوں یوروز کے پیداواری نقصان اور کاروباری مندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ نے جرمن حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے
ڈی آئی ایچ کے کی سالانہ سروے رپورٹ کے مطابق جرمنی بھر کی ہزاروں چھوٹی اور بڑی کمپنیوں نے حصہ لیا تقریباً نصف سے زائد جرمن کاروباری اداروں تقریباً 50 فیصد سے زیادہ فیکٹریوں اور کمپنیوں کو خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار اور ہنر کے حامل ملازمین ہی میسر نہیں ہوئے
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ بحران کسی ایک مخصوص شعبے تک محدود نہیں رہا، بلکہ جرمنی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، آئی ٹی، صحت عامہ، مہمان نوازی اور تعمیراتی شعبے اس قلت سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ہنرمندوں کی اس عدم دستیابی کی وجہ سے کمپنیوں کو اپنے آرڈرز منسوخ کرنا پڑ رہے ہیں یا اپنے کاروباری پھیلاؤ کے منصوبوں کو روکنا پڑ رہا ہے
رپورٹ میں اس افرادی قوت کی قلت کی بڑی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جرمنی کی آبادی تیزی سے بڑھاپے کی طرف گامزن ہے اور بیبی بومر نسل کے لاکھوں تجربہ کار ملازمین مسلسل ریٹائر ہو رہے ہیں، جبکہ ان کی جگہ لینے کے لیے نوجوان نسل کی تعداد انتہائی کم ہے
اس کے علاوہ، ڈیجیٹلائزیشن اور سبز توانائی کی طرف منتقلی کی وجہ سے مارکیٹ میں نئی مہارتوں کے حامل ورکرز کی مانگ میں اچانک بڑا اضافہ ہوا ہے جس کو مقامی تعلیمی اور تربیتی نظام فوری طور پر پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جرمن چیمبرز نے انتباہ کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی مارکیٹ میں جرمن مصنوعات کی مسابقت شدید متاثر ہوگی
رپورٹ کے آخر میں جرمن چیمبرز آف کامرس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کرے۔ تجویز دی گئی ہے کہ جرمنی کے اندرونی لیبر مارکیٹ کے وسائل کو متحرک کرنے کے لیے خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو بڑھایا جائے
محنت کشوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں لچک پیدا کی جائے اور موجودہ ورکرز کی جدید ٹیکنالوجی کے مطابق دوبارہ تربیت کی جائے۔ سب سے اہم بات یہ کہ رپورٹ میں یورپی یونین سے باہر کے ممالک بشمول پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے آنے والے غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے امیگریشن قوانین اور ویزا کے طریقہ کار کو مزید آسان، تیز رفتار اور بیوروکریسی کی پیچیدگیوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ جرمن کمپنیوں کی افرادی قوت کی فوری ضرورت کو پورا کیا جا سکے
