پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
پاکستانی محنت کشوں کے استحصال اور بے بسی کی المناک داستان
رپورٹ ، ( حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )
اگست 1947 کو جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا، تو اسے بانیانِ ملت کی خواہشات کے برعکس ورثے میں ایک ایسا لیبر قانون ملا جو مزدوروں کو ان کی اوقات میں رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا
برطانوی راج کا تیار کردہ ماسٹر اینڈ سرونٹ آقا اور غلام کا یہ فرسودہ تصور محنت کش کی عزتِ نفس کے بجائے صرف اجرت دینے والے کی مطلق العنان طاقت پر یقین رکھتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان نے اس نظام کو بغیر کسی تبدیلی کے جوں کا توں اپنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملز، لاہور کے اینٹوں کے بھٹوں اور کراچی و اسلام آباد کے گھروں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین اسی نوآبادیاتی عدم توازن کا شکار ہیں جہاں آقا حکم دیتا ہے اور ملازم صرف سر تسلیم خم کرتا ہے
پاکستانی قوانینِ ملازمت بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہیں ایک حصہ رجسٹرڈ صنعتی مزدوروں کو تحفظ دیتا ہے جن کے مسائل کے لیے لیبر عدالتیں موجود ہیں۔ لیکن دوسرا حصہ سفید پوش عملے، گھریلو ملازمین، کنٹریکٹ ورکرز اور غیر رسمی شعبے پر مشتمل ہے
جن پر کوئی جدید قانون نہیں بلکہ وہی پرانا ماسٹر اینڈ سرونٹ اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت مالک کو یہ یکطرفہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے کسی بھی ملازم کو بغیر کسی معقول وجہ کے نوکری سے فارغ کر دے
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپریل 2024 کے ایک فیصلے میں اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ ڈھانچہ جدید دور کے تقاضوں اور انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا
عدالت نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی برطرفیوں کے خلاف ایک خود مختار اور تیز رفتار ٹریبونل قائم کرے، لیکن دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مقننہ نے اس خلا کو پُر نہیں کیا
کارپوریٹ سیکٹر نے اس قانونی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کو بطور کاروباری حکمتِ عملی اپنا لیا ہے کاغذات پر مزدور ایجنسی کا ملازم ہوتا ہے لیکن وہ کام بڑی کارپوریشنز کے لیے کرتا ہے
اس حیلے سے کمپنیاں مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی اور مقررہ کم از کم اجرت دینے سے صاف مکر جاتی ہیں۔ لیبر بیہائنڈ دی لیبل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق، گارمنٹ انڈسٹری میں ورکرز کے اے ٹی ایم کارڈز تک ٹھیکیدار اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کی آدھی اجرت ہڑپ کر جاتے ہیں
دوسری طرف اینٹوں کے بھٹوں کی صورتحال غلامی کی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ ملک بھر کے 20 ہزار بھٹوں پر تقریباً 40 لاکھ سے زائد مرد، خواتین اور بچے ‘پشگی قرضے کے جال میں پھنس کر بندھوا مزدوری کرنے پر مجبور ہیں
پاکستان نے 1992 میں قانوناً بندھوا مزدوری پر پابندی عائد کی تھی لیکن برطانوی پارلیمانی گروپ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، اس قانون کا نفاذ صفر ہے
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھٹوں پر کام کرنے والے 70 فیصد سے زائد بچے اپنے والدین کا قرضہ اتارنے کے لیے بطور یرغمال کام کر رہے ہیں
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے نومبر 2025 کے سروے کے مطابق، ملک کی 83.1 ملین افرادی قوت میں سے 72 فیصد سے زائد حصہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے جنہیں کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں
اگرچہ پنجاب حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 متعارف کرایا ہے، لیکن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی نومبر 2025 کی رپورٹ میں اسے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کے منافی قرار دیا ہے کیونکہ اس کی تیاری میں مزدور تنظیموں کو شامل نہیں کیا گیا اور یہ مالکان کو ہڑتالوں کے دوران متبادل ورکرز لانے کی اجازت دے کر مزدوروں کا حقِ احتجاج چھینتا ہے
پاکستان کا آئین آرٹیکل 11، 17 اور 25 کے تحت جبری مشقت کے خاتمے اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، مگر جب تک ریاست میں نوآبادیاتی قوانین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا سیاسی عزم پیدا نہیں ہوتا، پاکستانی محنت کش شہری نہیں بلکہ سرونٹ ہی رہیں گے
