May 28, 2026

ای او بی آئی اور محنت کشوں کا معاشی استحصال

 ای او بی آئی اور محنت کشوں کا معاشی استحصال

محمد اکبر
————

پاکستان کا غریب محنت کش جب اپنی زندگی کی سب سے قیمتی پونجی، یعنی اپنی جوانی اور عمر کا ایک بڑا حصہ کارخانوں اور صنعتوں کی نذر کر دیتا ہے، تو بڑھاپے میں اس کا واحد معاشی سہارا ’ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کی پنشن ہوتی ہے۔

 یہ پنشن کوئی خیرات یا عطیہ نہیں، بلکہ محنت کش کا وہ قانونی اور آئینی حق ہے جس کے لیے اس کی تنخواہ اور مالک کے فنڈز سے ماہانہ کٹوتی کی جاتی ہے۔

لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اجرت کی ادائیگی اور رجسٹریشن کے نظام کو سنبھالنے والا یہ ادارہ آج اپنی مایوس کن کارکردگی، افسر شاہی کی ہٹ دھرمی اور قانون شکنی کے باعث غریب بوڑھے ملازمین کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

 اب وقت آ گیا ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ مروجہ قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کے واضح فیصلہ جات پر مکمل عملدرآمد کیے بغیر اس نظام میں کسی بہتری کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

ادارے کی نااہلی اور مزدور دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ یہ محنت کشوں کے مستقل عرصہ ملازمت کو تسلیم کرنے اور اس کی تصدیق کرنے سے ہی صاف انکاری ہیں۔

ملک بھر میں ایسے ہزاروں کیسز موجود ہیں جہاں فیکٹری مالکان نے ملازمین کو ملازمت کے باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کیے، ان کے پاس ای او بی آئی کے اصل رجسٹریشن کارڈز بھی موجود ہیں، اور انہوں نے اپنی پوری سروس مروجہ قانون کے مطابق گزاری۔

 لیکن جب وہ بڑھاپے میں پنشن کے لیے رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ای او بی آئی نے اپنے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کو سرے سے درست ہی نہیں کیا۔ غریب بوڑھے مزدور کو ایک ہی جواب ملتا ہے

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریکارڈ کی درستی اور تصدیق کس کی ذمہ داری ہے؟ ای او بی آئی انتظامیہ کو یہ بنیادی بات سمجھنی ہوگی کہ آپ نے مالکان اور ملازمین کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اپنے ریکارڈ کو مرتب اور اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے۔ آجروں  سے رجسٹریشن کروانا اور ان سے کنٹری بیوشن  کی باقاعدہ وصولی کرنا اس ادارے کی بنیادی، قانونی اور واجب الامر ذمہ داری ہے۔

 اگر ادارہ اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اس کا خمیازہ ایک غریب بیمہ دارکیوں بھگتے؟ اپنی پیشہ ورانہ سستی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے، عدم تصدیق کا بہانہ بنا کر کسی مزدور کا لازمی اور لازمی حقِ پنشن غصب کرنے کا اختیار ای او بی آئی کے کسی افسر کو حاصل نہیں ہے

یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر جرم ہے بلکہ ای او بی آئی ایکٹ 1976ء کے سیکشن 37 کے تحت ایک قابلِ سزا قانونی جرم بھی ہے۔ قانون کے مطابق، کسی مزدور کا حق مارنا یا ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنا سزا اور جرمانے کا تقاضا کرتا ہے۔

مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ ادارہ اور اس کے انسپکٹرز اب صرف مالکان کو بلیک میل کرنے، ان سے ملی بھگت کر کے اپنے لیے مال پانی اکٹھا کرنے اور رشوت ستانی کے جال کو پھیلانے کے لیے رہ گئے ہیں۔

 انہیں محنت کش کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ ملک کی بدقسمتی دیکھیے کہ قوانین کا مذاق اڑانے والے اور مزدوروں کو دفاتر کے چکر لگوا کر ذلیل کرنے والے ان انکاری افسران کے خلاف آج تک کوئی سخت ضابطہ یا تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی

جو اس بدعملی اور کرپشن کے تدارک کا باعث بن سکے۔ جب تک قانون شکن افسروں کو نوکریوں سے برطرف اور جیلوں میں بند نہیں کیا جائے گا، تب تک ای او بی آئی کا یہ سفید ہاتھی غریبوں کا خون چوستا رہے گا۔


تعارف: محمد اکبر کا شمار پنجاب کی مزدور تحریک کے انتہائی مخلص، نڈر اور فکری رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ طویل عرصے سے متحدہ لیبر فیڈریشن پنجاب کے پلیٹ فارم سے صنعتی محنت کشوں، بھٹہ مزدوروں اور غیر منظم سیکٹر کے ملازمین کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ خاص طور پر مزدوروں کے سماجی تحفظ کے اداروں جیسے ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی میں اصلاحات اور وہاں جاری کرپشن کے خلاف ایک مضبوط اور توانا آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے تجزیے اور کالم لیبر قوانین کی باریکیوں اور محنت کشوں کے حقیقی مسائل کے ترجمان ہوتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp