پاکستانی تارکینِ وطن محنت کشوں کی حفاظت کے لیے آئی ایل او اور وفاقی حکومت کا نیا اقدام
تعمیراتی مزدوروں کے لیے نیشنل اسکلز پاسپورٹ منصوبے کا آغاز
رپورٹ ، سردار سلیم الیاس –
پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں گزشتہ سالوں کے تباہ کن سیلابوں کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل ایک نئے تکنیکی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ملک میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہزاروں ایسے تجربہ کار محنت کش، جو بغیر کسی باضابطہ ڈگری یا سرٹیفکیٹ کے سالہا سال سے اپنی مہارتوں کا لوہا منوا رہے تھے، اب ان کے فن اور ہنر کو سرکاری اور عالمی سطح پر باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

حکومتِ پاکستان، حکومتِ خیبر پختونخوا، بین الاقوامی ادارہ محنت ایمپلائرز فیڈریشن اور ورکرز تنظیموں کے اشتراکِ عمل سے ایک نئ پیش رفت کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت پہلے سے حاصل شدہ مہارتوں کے اعتراف اور نیشنل اسکلز پاسپورٹ کے فروغ کا منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے
اس مشترکہ اور انقلابی پروگرام کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا کے سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع میں مقیم 3,000 تعمیراتی مزدوروں اور ہنر مندوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید ترین بین الاقوامی معائیر کے مطابق پرکھنا، ان کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں باقاعدہ اسکل سرٹیفکیشن فراہم کرنا ہے

اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں 300 انتہائی ماہر اور اہل تعمیراتی ورکرز کو نیشنل اسکلز پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے
یہ اسکل پاسپورٹ محنت کشوں کے ہنر کی قانونی اور باضابطہ تصدیق کا ایک ایسا دستاویز ہوگا جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی مہارت اور قابلیت کا اعتراف بنے گا، جس سے ان کے لیے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک باوقار اور بہتر معاوضے والے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
صوبے میں سیلاب کے بعد کی صورتحال کے پیشِ نظر، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں سبز، محفوظ اور زیادہ پائیدارتعمیراتی سرگرمیوں کا ایک مضبوط نظام اور ماحول تشکیل پائے گا

اس سے قبل استاد شاگردی نظام کے تحت دہائیوں تک کام کرنے والے استاد معمار، الیکٹریشن، پلمبر اور دیگر فنی ماہرین کے پاس اپنی قابلیت کو ثابت کرنے کے لیے کوئی تحریری یا سرکاری اسناد نہیں ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے انہیں معاشی استحصال اور کم اجرت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم اس منصوبے کے ذریعے ان کے سالوں کے عملی تجربے کو قانونی سند کا درجہ مل سکے گا۔
اس منصوبے کا انعقاد اٹلی کی حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ اس موقع پر اطالوی وزارتِ خارجہ اور بین الاقوامی تعاون اور اطالوی ترقیاتی ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ مالی و تکنیکی معاونت کو سراہا گیا، جنہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مزدوروں کے معاشی و فلاحی استحکام کے لیے اس منصوبے کی بھرپور سرپرستی کی۔
منتظمین اور متعلقہ اداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ تکنیکی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے اس نظام کی مضبوطی سے نہ صرف صوبے کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی بلکہ تعمیراتی صنعت میں معیار اور تحفظ کے نئے اصول بھی قائم ہوں گے
