کمشنر سوشل سیکیورٹی پنجاب کے خلاف تحریک کا اغاز، لاہور کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی
لاہور ( لیبر نیوز ویب ڈیسک) پنجاب سوشل سیکیورٹی میں مبینہ بدانتظامی، ادویات کی قلت اور مزدوروں کی غیر متناسب رجسٹریشن کے خلاف محنت کشوں نے کمشنر سوشل سیکیورٹی ذوالفقار علی کھرل کے خلاف صوبائی سطح پر احتجاجی تحریک کا اغاز کر دیا ہے
لیبر قومی مومنٹ پاکستان کے سربراہ بابا لطیف انصاری نے کہا ہے کہ اسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے جبکہ ورکرز کے کنٹریبیوشن کے فنڈز کو سیاسی مقاصد اور راشن کارڈز کی مد میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
بابا لطیف انصاری نے کہا کہ تحریک کا آغاز جھنگ روڈ پر پہلے جلسے سے کیا گیا ہے جس کے بعد گجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مزدور رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ گجرانوالہ اور سیالکوٹ میں لاکھوں صنعتی ورکرز کے باوجود محض 80 ہزار مزدور رجسٹرڈ ہیں، جبکہ انتظامی سطح پر ایک ہی ایم ایس کو تین تین ہسپتالوں کا چارج سونپ دیا گیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے کمشنر سوشل سیکیورٹی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں فیصل آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ، قصور اور گجرانوالہ سے ہزاروں محنت کش تختِ لاہور کی جانب مارچ کریں گے۔
