August 29, 2026

کوئلہ کانیں موت کے کنویں بن گئے ایک ہفتے میں 6 کان کن مزدوروں کی ہلاکت

 کوئلہ کانیں موت کے کنویں بن گئے ایک ہفتے میں 6 کان کن مزدوروں کی ہلاکت

حنظلہ عماد

بلوچستان کا ضلع دکی جو اپنے کوئلے کے وسیع ذخائر کے باعث جانا جاتا ہے، اب وہاں کے غریب اور محنت کش کان کنوں کے لیے ایک بھیانک خواب اور موت کا کنواں ثابت ہو رہا ہے

رزقِ حلال کمانے کی خاطر زمین کی سینکڑوں فٹ گہرائی میں اترنے والے مزدوروں کی لاشیں باہر نکلنا اب کوئی استثنائی بات نہیں بلکہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے

حالیہ واقعے میں ایک ہی ہفتے کے دوران 6 کان کنوں کی المناک ہلاکت نے جہاں متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں، وہیں مزدور تنظیموں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

نیشنل لیبر فیڈریشن ضلع دکی کے جنرل سیکرٹری سید عبدالمجید شاہ نے اس المناک صورتحال پر اپنے سخت تشویشناک بیان میں کہا ہے کہ ضلع دکی کی کوئلہ کانیں اب مزدوروں کے لیے کھلے مذبح خانے بن چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملک میں مائنز رولز اور حفاظتی قوانین کاغذات کی حد تک موجود ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

سندھ لیبر فیڈریشن کے صدر عبدالقوم نے شدید الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آخر کب تک غریب اور بے بس مزدوروں کے جنازے اٹھتے رہیں گے؟ اور کب تک ہر دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد صرف سرکاری افسوس، تعزیتی بیانات اور دکھاوے کے نوٹسز جاری کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا؟ مزدور صرف اعداد و شمار کا کوئی بے روح رقم نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے خاندانوں کے واحد کفیل اور اپنے معصوم بچوں کے روشن مستقبل کا سہارا ہیں۔

کوئلہ کانوں میں مسلسل پیش آنے والے جان لیوا حادثات کی بنیادی وجوہات میں کان کے اندر خطرناک اور زہریلی گیسوں کی بروقت چیکنگ کے لیے جدید گیس ڈیٹیکٹرز کا سرے سے نہ ہونا جبکہ کانوں کی گہرائی میں تازہ ہوا کی آمد و رفت (وینٹیلیشن) کا مناسب انتظام نہ ہونا ہے

کان کنوں ਨੂੰ معیاری حفاظتی سامان، ہیلمٹ، اور ایمرجنسی آلات کی عدم فراہمی مزدوروں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے اور محفوظ کام سے متعلق کسی قسم کی پیشہ ورانہ تربیت نہ دینا کسی بھی کاروباری مفاد، کوئلے کے کنٹریکٹ یا منافع سے زیادہ قیمتی ایک انسانی زندگی ہے، مگر افسوس کہ ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع دکی کی تمام کوئلہ کانوں کا ہنگامی بنیادوں پر غیر جانبدارانہ اور جامع سیفٹی آڈٹ کروایا جائے ہر کان کے اندر جدید ترین گیس ڈیٹیکٹرز، وینٹیلیشن سسٹم اور حفاظتی سامان کی موجودگی کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا جائے جن کانوں میں حفاظتی تدابیر مکمل نہ ہوں، ان کا کام فوری طور پر روکا جائے اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے

ایک ہفتے کے اندر ہونے والے حادثات کی شفاف تحقیقات کر کے غفلت کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جاں بحق ہونے والے تمام 6 کان کنوں کے لواحقین کو فوری، مناسب اور باعزت مالی معاوضہ فراہم کیا جائے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp