ڈینم کلاتھنگ کی ایک طویل جدوجہد کی کہانی
عمیر شاہ،
پاکستان کی صنعتی تاریخ میں مزدوروں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد اکثر طویل، کٹھن اور صبر آزما ثابت ہوتی ہے
لیکن جب مسلسل اور منظم قانونی و سماجی کوششوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر دباؤ اور یکجہتی کو شامل کر لیا جائے تو کامیابی کا سورج بالآخر طلوع ہو ہی جاتا ہے
کچھ ایسا ہی نظارہ کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی میں دیکھنے کو ملا، جہاں ڈینم کلاتھنگ کمپنی یونٹ 4 کے بند ہونے سے بے روزگار ہونے والے ہزاروں مزدوروں میں کروڑوں روپے کے واجبات کی تقسیم کا عمل شروع ہوا۔

جون 2022 میں ڈینم کلاتھنگ کمپنی کے اچانک بند ہو جانے کے بعد 2,536 سے زائد مزدور بیک جنبشِ قلم بے روزگار ہو گئے تھے۔
روزگار کے اچانک ختم ہو جانے اور واجبات کی عدم ادائیگی نے ان ہزاروں خاندانوں کو شدید معاشی اور ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس کٹھن مرحلے پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان نے ان برطرف ورکرز کی قانونی اور میدانِ عمل میں رہنمائی کا بیڑا اٹھایا
یہ جدوجہد صرف مقامی سطح پر لیبر کورٹس اور سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ این ٹی یو ایف کی قیادت نے اس معاملے کو بین الاقوامی سپلائی چین کے ساتھ جوڑتے ہوئے ان عالمی فیشن برانڈز تک پہنچایا جو اس فیکٹری سے ملبوسات تیار کرواتے تھے۔
مقامی و عالمی قوانین کے تحت تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی اس بے مثال اور منظم جدوجہد کے نتیجے میں دو نامور بین الاقوامی برانڈز نے اخلاقی اور قانونی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متاثرہ ورکرز کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے مالی حصہ ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی

اس فتح کا سب سے اہم اور شفاف مرحلہ رقم کی تقسیم کا عمل تھا۔ کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع بلقیس ایدھی چائلڈ ہوم میں ایک پروقار اور شفاف تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں 16 تا 18 اگست تک متاثرہ ورکرز میں چیکس کی تقسیم کا عمل جاری رہا۔ فیصل ایدھی کی سربراہی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے تعاون سے کل 10 کروڑ 45 لاکھ 25 ہزار 608 روپے کی رقم مزدوروں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔
تقسیم کے مقررہ فارمولے کے مطابق، جن ورکرز نے کمپنی میں کم از کم چھ ماہ کی ڈیوٹی انجام دی تھی، انہیں گزشتہ تین ماہ کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر ایک ماہ کی اضافی اجرت فراہم کی گئی۔ این ٹی یو ایف کے کورنگی اور لانڈھی میں قائم ورکرز لیگل ہیلپ سینٹرز کے نمائندگان نے ہزاروں ورکرز کی دستاویزات اور ڈیٹا کی منصفانہ تصدیق کا کام کسی ذاتی مفاد کے بغیر سرا انجام دیا۔

ایسوسی ایشن آف ٹریڈ یونینز اور لیبر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مالی ادائیگی یا محض چیکس کی تقسیم نہیں ہے، بلکہ یہ 2,536 محنت کش خاندانوں کے صبر، استقامت اور باہمی اتحاد کا پھل ہے۔
یہ کامیابی اس بات کی بھی روشن مثال ہے کہ اگر ورکرز کو درست قانونی رہنمائی حاصل ہو اور بین الاقوامی برانڈز کو ان کی سپلائی چین کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے، تو نامساعد حالات میں بھی حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں
برطرف مزدوروں کے چہروں پر اطمینان اور خوشی کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی، تاہم یونین رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ یہ جدوجہد یہاں ختم نہیں ہوئی۔ دیگر منسلک برانڈز اور فیکٹری مالکان سے بقیہ تمام ماندا واجبات اور قانونی حقوق کے کامل حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
