پاکستانی تارکینِ وطن محنت کشوں کی حفاظت کے لیے آئی ایل او اور وفاقی حکومت کا نیا اقدام
پاکستانی تارکینِ وطن محنت کشوں کی حفاظت کے لیے آئی ایل او اور وفاقی حکومت کا نیا اقدام
رپورٹ، اسامہ قذافی
پاکستان سے ہر سال روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے والے لاکھوں محنت کشوں کو منصفانہ، شفاف اور ہراسانی سے پاک عمل فراہم کرنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی اور قومی مشاورت کا انعقاد کیا گیا ہے
وزارتِ بیرونِ ملک پاکستانی و انسانی وسائل اور جرمن ترقیاتی ادارے کے تعاون سے بین الاقوامی ادارہ محنت نے وفاقی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی تارکینِ وطن کے بھرتی کے عمل میں شفافیت لانا اور ان کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانا تھا

اس اجلاس میں حکومتِ پاکستان، آجرین، مزدور تنظیموں، بھرتی کرنے والی ایجنسیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اور آئی ایل او کے کنونشن نمبر 181 کے تحت ملکی قوانین کا قانونی تجزیہ پیش کیا گیا۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم ہجرت یا اوورسیز ملازمتی سفر کا سب سے نازک اور حساس مرحلہ ابتدائی بھرتی کا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر اکثر اوقات سادلوح محنت کشوں کو ایجنٹوں کے ہاتھوں اضافی اخراجات، جعلسازی اور معاہدوں کی خلاف ورزی جیسی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

اجلاس کے دوران آئی ایل او کنونشن 181 پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایجنسیز کنونشن کے تناظر میں پاکستان کے موجودہ قانونی اور انتظامی فریم ورک کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا
ماہرین نے ان قانونی خلاؤں اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی جن کے باعث ورکرز کا استحصال ہوتا ہے۔ مشاورت میں ایک ایسا اکاؤنٹ ایبل جوابدہ اور شفاف نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جو آجروں کے لیے اہل افراد کی بھرتی آسان بنائے اور محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرے۔
مشاورتی اجلاس کے دوران اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ صرف مضبوط قوانین اور پالیسیاں بنانا کافی نہیں ہے، بلکہ ان کی حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد ، اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری اور قانون کا نفاذ ہی اصل کامیابی کی ضامن ہے

شراکت داروں نے کہا کہ پاکستان سے ہر سال لاکھوں افراد روزگار کی خاطر بیرونِ ملک کا رخ کرتے ہیں۔ اگر ابتدائی سطح پر ہی ریکروٹمنٹ کا نظام شفاف اور منصفانہ ہوگا تو غیر ملکی کمپنیوں اور آجروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور پاکستانی ورکرز کو بیرونی ملکوں میں باوقار اور محفوظ حالاتِ کار میسر آئیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی حکومت، آئی ایل او اور جی آئی زیڈ نے مل کر اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانونی تجزیے کی روشنی میں ضروری اصلاحات کی جائیں گی اور پرائیویٹ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے لیے قواعد و ضوابط کو مزید سخت و شفاف بنایا جائے گا
اس کے ساتھ ساتھ اوورسیز ورکرز کو ان کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی مہم بھی تیز کی جائے گی تاکہ ہجرت کے سفر میں ان کے معاشی اور انسانی حقوق پر کوئی حرف نہ آئے
