July 22, 2026

زندگی کو ہار جانے والے محنت کش

 زندگی کو ہار جانے والے محنت کش

اسرار ایوبی

روٹی تو کسی طور کمائے کھائے مچھندر یعنی کوئی بھی شخص ہو، اسے زندہ رہنے اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش ڈھونڈنا ہی پڑتا ہے لیکن کام صرف روزگار ہی مہیا نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کے ذہنی سکون، عزتِ نفس اور مجموعی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے

جہاں دنیا میں لاکھوں لوگ آرام دہ اور ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف محنت کشوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو انتہائی ناسازگار، غلیظ اور خوفناک ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے

محنت کی معاشیات  کی اصطلاح میں ان کارکنوں کو تھری ڈی ورکرز کہا جاتا ہے، یعنی ایسے محنت کش جو گندے، خطرناک اور مشکل یا تحقیر آمیزکام انجام دیتے ہیں.

سماجیات کی رو سے گندے کاموں سے مراد ایسے پیشے ہیں جنہیں معاشرہ جسمانی، سماجی یا اخلاقی طور پر کمتر یا ناخوشگوار سمجھتا ہے. ان کاموں کو کرنے سے عام لوگ گریز کرتے ہیں حالانکہ معاشرے کے بقا اور تسلسل کے لیے یہ کام نہایت ضروری ہیں

صفائی ستھرائی، کچرا اٹھانا، سیوریج لائنوں کی صفائی، گہرے سمندر میں آئل رگز، کان کنی، چمڑہ سازی، اور مذبح خانوں میں کام کرنا اسی زمرے میں آتا ہے. ان کاموں میں مزدوروں کا واسطہ زہریلے مواد، انسانی فضلے اور مضرِ صحت ماحول سے پڑتا ہے

دوسری طرف خطرناک کاموں سے مراد وہ پیشے ہیں جہاں حادثات، معذوری یا موت کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے. امریکی بیورو برائے شماریاتِ محنت جیسے ادارے ان خطرات کی پیمائش کام کے دوران ہونے والی اموات کی شرح سے کرتے ہیں. ان میں جنگلات میں لکڑی کی کٹائی، تجارتی ماہی گیری، بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر، اور فائر فائٹنگ جیسے پیشے شامل ہیں

جہاں تک مشکل اور تحقیر آمیز کاموں کا تعلق ہے، تو یہ وہ کام ہیں جو کارکنوں سے غیر معمولی جسمانی، ذہنی اور جذباتی مشقت کا تقاضا کرتے ہیں اور معاشرے میں انہیں کم وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ان میں آئی سی یو کی نرسیں، فضائی ٹریفک کنٹرولرز اور مینوفیکچرنگ کے مزدور شامل ہیں

روایتی طور پر ان پیشوں میں خطرات اور ناپسندیدگی کے بدلے زیادہ اجرت دی جانی چاہیے، تاکہ غریب اور غیر ہنر مند افراد اپنی جان جوکھم میں ڈالنے پر راضی ہو سکیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ایشیائی ممالک بالخصوص جاپان میں ان ملازمتوں کو کہا جاتا ہے جاپانی معیشت کا انحصار ان شعبوں پر بہت زیادہ ہے، لیکن وہاں کی مقامی آبادی عمر رسیدہ ہونے اور سخت حالات کی وجہ سے ان کاموں سے دور بھاگتی ہے. نتیجہ یہ ہے کہ جاپان اب ان شعبوں میں مینوفیکچرنگ، زراعت اور تعمیرات کے لیے لاکھوں غیر ملکی اور تارکینِ وطن مزدوروں پر انحصار کر رہا ہے، جو اکثر اوقات کم اجرت، زبان کی رکاوٹوں اور مالی و جسمانی استحصال کا شکار ہوتے ہیں

عالمی ادارہ محنت  دنیا بھر میں ان تھری ڈی ملازمین کے حقوق، پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے

آئی ایل او کا باوقار روزگار ایجنڈا ان غیر رسمی اور خطرناک ملازمتوں کو باقاعدہ اور محفوظ روزگار میں تبدیل کرنے پر زور دیتا ہے. عالمی ادارہ محنت کا یہ بھی ماننا ہے کہ خطرناک اور گندے کاموں میں انسانی جانوں کے زیاں کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کا سہارا لیا جانا چاہیے تاکہ وہ پرخطر جگہوں پر انسانوں کی جگہ لے سکیں

پاکستان میں لاکھوں تھری ڈی ورکرز روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتے ہیں، لیکن یہاں مزدور قوانین اور حفاظتی اقدامات کا نفاذ انتہائی کمزور ہے.

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مخدوش کوئلہ کانیں دنیا کی خطرناک ترین کانوں میں شمار ہوتی ہیں، جہاں مزدور بغیر کسی حفاظتی سامان کے سینکڑوں فٹ گہرائی میں زہریلی گیسوں، دھماکوں اور کانوں کے بیٹھنے کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں.

گڈانی کے ساحل پر بحری جہازوں کی کٹائی کا کام کرنے والے مزدور مناسب حفاظتی آلات کے بغیر دیوہیکل لوہے کے ڈھانچوں، زہریلی گیسوں اور دھماکوں کی زد میں رہتے ہیں.

تعمیراتی مزدور بانسوں کے کچے اور مخدوش ڈھانچوں پر بغیر حفاظتی بیلٹ یا ہیلمٹ کے کام کرتے ہیں. جبکہ بھٹوں پر کام کرنے والے خاندان شدید گرمی اور زہریلے دھوئیں میں دستی مشقت پر مجبور ہیں.

میونسپل اداروں کے تحت صفائی کرنے والے، جن کا تعلق زیادہ تر اقلیتی برادریوں سے ہوتا ہے، بغیر ماسک یا آلات کے گہرے اور زہریلے گٹروں میں اترتے ہیں اور اکثر دم گھٹنے سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں.

پاکستان میں ان مزدوروں کا سب سے بڑا مسئلہ غیر رسمی ٹھیکیداری نظام ہے. رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ حادثات کی صورت میں پنشن، لائف انشورنس اور بنیادی علاج سے محروم رہتے ہیں. اس کے ساتھ ہی، غربت کی وجہ سے کمسن بچے بھی آٹو ورکشاپس، بھٹوں اور زراعت جیسے خطرناک کاموں میں جھونک دیے جاتے ہیں.

جب تک پاکستان میں پیشہ ورانہ صحت اور تحفظ  کے قوانین پر سختی سے عمل نہیں کرایا جاتا، ٹھیکیداری نظام کو رجسٹرڈ نہیں کیا جاتا، اور مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں آگاہی نہیں دی جاتی، تب تک مچھندر اسی طرح اپنی جان گنوا کر روٹی کمانے پر مجبور رہے گا.

تعارف، اسرار ایوبی پاکستان میں سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام ہیں۔ وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک محنت کشوں کے پنشن و دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے تحقیقی مضامین اور معاشی تجزیے لیبر قوانین کے ارتقا، سماجی تحفظ کے نظام اور ٹریڈ یونینز کی تاریخ پر گہری اور مستند چھاپ رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp