پاکستانی تارکینِ وطن محنت کشوں کی حفاظت کے لیے آئی ایل او اور وفاقی حکومت کا نیا اقدام
محنت کشوں کے فنڈز پر ڈاکے کی کوشش؟
عبدالستار نیازی
کسی بھی معاشرے میں مزدور اور محنت کش ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے خون پسینے سے کارخانے چلتے ہیں، معیشت کا پہیہ گھومتا ہے اور ریاست کو اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے
پاکستان میں انشورڈ محنت کشوں اور صنعتوں سے سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی کی مد میں ہر ماہ کروڑوں روپے کا کنٹری بیوشن باقاعدگی سے وصول کیا جاتا ہے
اس فنڈ کا بنیادی مقصد مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ لیکن کراچی کا لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال محنت کشوں کے لیے علاج گاہ کے بجائے ایک ایسا عقوبت خانہ بن چکے ہیں جہاں علاج معالجے کے نام پر ان کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔
لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال کا بحران اس وقت سنگین ترین صورتحال اختیار کر گیا جب سے ادویات کی سپلائی کا پورا نظام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کڈنی سینٹر کے ذریعے مشروط کیا گیا ہے
اس ناقص سپلائی چین کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسپتال کو اس کی اصل ضرورت کے مقابلے میں صرف 10 سے 20 فیصد ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ 80 فیصد سے زائد جان بچانے والی اور بنیادی ادویات غائب ہیں
جب کروڑوں روپے کا کنٹری بیوشن دینے والے مزدوروں کو پیناڈول اور کینولا تک باہر سے خریدنا پڑے، تو سیسی جیسے اربوں روپے کے بجٹ والے ادارے کی کارکردگی اور نیت پر سنگین سوالات اٹھنا فطری امر ہے
ادویات کی اس شدید قلت نے اسپتال کے آپریشن تھیٹرز اور وارڈز کو انفیکشن پھیلانے والی جگہوں میں تبدیل کر دیا ہے اسپتال کے آرتھو فیمیل وارڈ میں زیرِ علاج غریب مزدور مریضہ کی حالت اس مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے
آپریشن کے بعد ضروری ادویات اور اینٹی بائیوٹکس نہ ملنے کے باعث خاتون کے زخم میں شدید انفیکشن ہو چکا ہے اگر یہی حالت برقرار رہی تو لانڈھی اسپتال میں داخل دیگر سینکڑوں مریضوں کے آپریشن شدہ زخم ناسور بن جائیں گے اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے
اعداد و شمار کے مطابق، لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال کی او پی ڈی میں روزانہ تقریباً 1300 غریب محنت کش اور ان کے بچے علاج کے لیے آتے ہیں، جبکہ مختلف وارڈز میں مستقل طور پر تقریباً 300 مریض داخل رہتے ہیں۔ یعنی روزانہ ساڑھے سولہ سو سے زائد انسانوں کا بوجھ اٹھانے والے اس بڑے اسپتال کو ادویات سے محروم کر کے بیوروکریسی آخر کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟
جب یہ غریب مریض نسخہ ہاتھ میں لیے فارمیسی کے چکر کاٹتے ہیں اور انہیں ہر بار ‘دوا دستیاب نہیں ہے’ کا کورا جواب ملتا ہے، تو ان کا صبر جواب دے جاتا ہے
ادویات کی عدم دستیابی کے باعث روزانہ مریضوں، ان کے لواحقین اور ڈیوٹی پر موجود طبی عملے کے درمیان تلخ کلامی، گالی گلوچ اور جھگڑے اب یہاں کا روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں
اسپتال کا ماحول میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا ہے، جس سے سوشل سیکیورٹی کے پورے نظام کی ساکھ عالمی اور قومی سطح پر مٹی میں مل رہی ہے۔
آل سندھ ورکرز فیڈریشن اس مجرمانہ خاموشی پر اب مزید تماشائی نہیں بنی رہ سکتی۔ ہم کمشنر سوشل سیکیورٹی سندھ اور میڈیکل ایڈوائزر سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں:
لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال اور آئی ٹی سی کو کڈنی سینٹر کے چنگل سے آزاد کرا کے تمام ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی 100 فیصد بلا تعطل فراہمی بحال کی جائے۔
کڈنی سینٹر کی جانب سے ادویات کی ناقص سپلائی اور اس کے پیچھے چھپی مبینہ کرپشن کی اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
معصوم محنت کشوں اور مریضوں کی جانوں کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالنے والے متعلقہ افسران اور مافیا کے خلاف فوری کارروائی کر کے انہیں عہدوں سے ہٹایا جائے۔
ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ غریب مزدوروں کے کنٹری بیوشن کے پیسے پر افسران کی عیاشیاں اب مزید برداشت نہیں کی جائیں گی۔ اگر ادویات کا کوٹہ فوری طور پر پورا نہ کیا گیا، تو آل سندھ ورکرز فیڈریشن کے بینر تلے مریض، محنت کش اور ان کے نمائندے اپنے آئینی و قانونی حق کا استعمال کرتے ہوئے کڈنی سینٹر کے سامنے پرامن احتجاج اور گھیراؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہر قسم کی انتظامی یا امن و امان کی خراب صورتحال کی تمام تر لاپرواہی اور ذمہ داری کمشنر سیسی، میڈیکل ایڈوائزر اور متعلقہ نااہل انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کا یہ ہولناک ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے!
