July 22, 2026

ای او بی آئی کا ایکچوریل گورکھ دھندا

 ای او بی آئی کا ایکچوریل گورکھ دھندا

قاضی تحسین احمد ہاشمی

کسی بھی فلاحی ریاست میں پنشن کا تصور بزرگ شہریوں کو ان کی عمر کے آخری حصے میں معاشی تحفظ اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہوتا ہے

لیکن پاکستان میں ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن ای او بی آئی کے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ پنشنرز کے لیے یہ ادارہ تحفظ کے بجائے ذہنی اذیت اور معاشی سسکسی کا استعارہ بن چکا ہے

آج جب یہ ادارہ قائم ہوئے نصف صدی گزر چکی ہے، تو غریب محنت کشوں کو ان کا جائز حق دینے کے بجائے ایک نیا راگ الاپا جا رہا ہے جسے تکنیکی زبان میں کہا جاتا ہے پنشنرز کا واضح موقف ہے کہ یہ ایکچوریل کچھ اور نہیں بلکہ غریبوں کی پنشن روکنے کا ایک سوچا سمجھا بہانہ اور قانونی ڈرامہ ہے

تکنیکی اور کاروباری زبان میں ایکچوریل بنیادی طور پر مالیاتی اداروں، انشورنس کمپنیوں اور فنڈز کا ایک ایسا مستقبل بین نظام ہے جس کے تحت آنے والے سالوں کے خدشات، نقصانات، مہنگائی کے تناسب اور بینکنگ منافع انٹرسٹ ریٹ کا سائنسی اور ریاضیاتی اصولوں کے تحت تخمینہ لگایا جاتا ہے اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کوئی ادارہ مستقبل میں مالی طور پر دیوالیہ تو نہیں ہو جائے گا

لیکن جب اس فارمولے کو ای او بی آئی کے غریب پنشنرز پر لاگو کیا جاتا ہے تو یہ کسی سائنسی تجزیے کے بجائے علمِ نجوم کی طرح محض وہم، گمان اور مفروضوں کا پلندہ نظر آتا ہے

پنشنرز کا دعویٰ ہے کہ جب بین الاقوامی ادارے ملک میں مہنگائی کا تناسب 5 فیصد ظاہر کرتے ہیں، تو یہ ایکچوریل ماہرین اسے مبالغہ آرائی کے ساتھ 15 فیصد تک دکھاتے ہیں تاکہ فنڈز کی کمی کا مصنوعی خوف پیدا کر کے پنشن میں اضافے کی راہ روکی جا سکے۔

اگر ایکچوریل رپورٹ اتنی ہی قانونی اور ناگزیر ہے، تو یہ شرط صرف غریب پنشنرز کی پنشن بڑھانے کے وقت ہی کیوں سامنے آتی ہے؟

ای او بی آئی جب چاہے جس وقت چاہے اپنے افسران اور ملازمین کی عیاشیوں، تنخواہوں، میڈیکل الاؤنسز اور دیگر مراعات میں کروڑوں روپے کا اضافہ کر لیتا ہے۔ اس وقت کسی ایکچوریل رپورٹ کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ اپنی ہی بنائی ہوئی پاکٹ یونینز کے ساتھ مل کر چند منٹوں میں شاہانہ مراعات منظور کر لی جاتی ہیں۔

محکمہ ای او بی آئی کا یہ دعویٰ کہ اس کے پاس فنڈز کی کمی ہے، حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ ادارے نے ملک بھر میں غریب محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی سے اربوں روپے کی کمرشل پراپرٹیز، پلاٹس اور فلائٹس خرید رکھے ہیں

ان جائیدادوں سے ماہانہ کروڑوں روپے کا کرایہ وصول ہوتا ہے، جس میں وقت کے ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ، بینکوں اور سرکاری اسکیموں میں رکھی گئی رقم پر منافع کی شرح گزشتہ سالوں میں 22 فیصد تک رہی ہے، جو اب بھی 11 فیصد کے آس پاس ہے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر سال فنڈ جمع کرانے والے فعال ملازمین کی تعداد بڑھتی ہے، جبکہ عمر رسیدہ پنشنرز کی اموات کے باعث وصول کنندگان کم ہوتے ہیں۔

بہت سے محنت کشوں کا جمع شدہ فنڈ ان کی وفات کے بعد ادارہ خود ہی ہڑپ کر جاتا ہے، لیکن ایکچوریل رپورٹ کبھی اس کا سائنسی حساب نہیں دیتی

ای او بی ایکٹ 1976ء کے چیپٹر کے تحت سیکشن 20 سالانہ کارکردگی اور مالی رپورٹ سے متعلق ہے وفاقی حکومت نے 2002ء میں ترمیم کر کے سیکشن 21 کا اضافہ کیا، جس کے تحت ای او بی آئی پابند ہے کہ وہ اپنی پراپرٹی، اثاثہ جات، آمدن اور اخراجات کی شفاف رپورٹ پیش کرے

ادارے کے قیام کو 50 سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں کبھی پنشن میں اضافے کو اس حد تک ایکچوریل رپورٹ کے ساتھ نتھی کر کے التوا کا شکار نہیں کیا گیا۔ اب اچانک اس واویلا کا مقصد صرف اور صرف غریب پنشنرز کو ڈرانا، دھمکانا اور رولانا ہے

آج کے اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں، جہاں بجلی کے بل، آٹے کا تھیلا اور بنیادی ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، 11,500 روپے کی معمولی پنشن میں کسی ایک فرد کا بھی مہینہ بھر گزر بسر کرنا ناممکن ہے۔ یہ رقم محنت کشوں کے ساتھ مذاق اور ان کی تذلیل کے مترادف ہے

وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ای او بی آئی پنشنرز ان خود ساختہ ہمدردوں اور ایجنٹوں سے ہوشیار رہیں جو ادارے کے تنخواہ دار بن کر پنشنرز کو گمراہ کرتے ہیں

کسی کو برا بھلا کہنے کے بجائے کلمہ حق بلند کرنا اور کم از کم پنشن کو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہی اب آخری راستہ بچا ہے

جب تک محنت کش یکجا ہو کر آواز بلند نہیں کریں گے، بیوروکریسی ایکچوریل جیسے گورکھ دھندوں کے پیچھے چھپ کر غریبوں کا معاشی قتل کرتی رہے گی۔

تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp