July 22, 2026

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مزدوروں پر ظلم

 پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مزدوروں پر ظلم

احمد زیب


پاکستان میں معاشی بحران اور مہنگائی کی لہر کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ دنوں میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیے جانے والے مسلسل اضافے نے غریب اور محنت کش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے

پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں چند روپے کا اضافہ بظاہر ایک عام معاشی فیصلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات جب نچلی سطح پر منتقل ہوتے ہیں تو یہ عام آدمی کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں

حکومت کا فیصلے محنت کشوں پر صریحاً ظلم ہے اور ملک گیر احتجاج کی راہ کو ہموار کر رہا ہے  ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف عالمی مارکیٹ اور بیرونی قرضوں کے نام پر عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ملک کے کروڑوں محنت کشوں کو زندہ رہنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے

معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی ملک کی معیشت میں بارود کی طرح اثر دکھاتی ہیں۔ جیسے ہی پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے، ملک میں مال برداری لاجسٹکس کے اخراجات میں فوری طور پر ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے

کراچی سے خیبر تک چلنے والے ٹرک، پک اپس اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے براہِ راست اثر روزمرہ کی اشیائے خورونوش پر پڑتا ہے۔ سبزیوں، دالوں، گندم، دودھ اور ادویات جیسی بنیادی ضرورت کی چیزیں دیکھتے ہی دیکھتے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں

پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن سمجھتی ہے کہ یہ فیصلہ مزدوروں، دیہاڑی دار افراد، کسانوں اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہو، وہاں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دراصل غریب کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مہنگائی تو روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہے، لیکن محنت کش کی اجرت مہینوں اور سالوں تک اسی ایک جگہ پر منجمد رہتی ہے

حکومت کی طرف سے جو کم از کم اجرت مقرر کی جاتی ہے، اول تو نجی شعبے اور کارخانوں میں اس پر عملدرآمد ہی نہیں کروایا جاتا، اور اگر کہیں عمل ہو بھی رہا ہو، تو موجودہ مہنگائی کے دور میں وہ رقم ایک خاندان کے صرف ایک ہفتے کے راشن کے لیے بھی ناکافی ہے۔

جب ایک دیہاڑی دار مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے، تو اسے سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے دگنے ہو چکے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ مزدور کی روزانہ کی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف کام کی جگہ تک پہنچنے اور واپس آنے میں ہی ختم ہو جاتا ہے

پیچھے جو بچتا ہے، اس سے وہ یا تو اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتا ہے، یا مکان کا کرایہ دے سکتا ہے، یا پھر بیمار بوڑھے والدین کے لیے دوا خرید سکتا ہے۔ ان تینوں کاموں کو ایک ساتھ سرانجام دینا اب ناممکن ہو چکا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اثر صرف شہروں کے کارخانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس نے دیہی معیشت اور کسانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے

ہمارے ملک کا زرعی نظام ٹیوب ویلوں اور ٹریکٹروں پر منحصر ہے جو زیادہ تر ڈیزل پر چلتے ہیں۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو فصلوں کی کاشت کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا نقصان کسان کو اٹھانا پڑتا ہے اور بعد میں وہی مہنگی فصل جب مارکیٹ میں آتی ہے تو عام خریدار کی چیخیں نکلوا دیتی ہے

اسی طرح صنعتی ورکرز اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ لاکھوں افراد بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں۔ مہنگے پیٹرول کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے اس شعبے سے وابستہ لاکھوں خاندانوں کا چولہا ٹھنڈا ہونے کا اندیشہ ہے

انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احمد زیب نے حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ صرف قیمتیں کم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ حکومت کو ملک کے محنت کشوں کو فوری ریلیف دینے کے لیے کم از کم اجرت میں ایک حقیقت پسندانہ اور بڑا اضافہ کرنا ہوگا تاکہ مزدور کم از کم عزت وقار کے ساتھ دو وقت کی روٹی حاصل کر سکے۔

مزدور رہنما کا یہ انتباہ حکومت کے لیے ایک واضح سگنل ہے کہ غریب عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ اگر ریاست نے اپنے عوام دشمن معاشی فیصلوں اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا سلسلہ بند نہ کیا، تو ملک بھر کے محنت کش سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور ہوں گے۔ ٹریڈ یونینز کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ اب مزدور اپنے حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری طریقے سے پرامن لیکن بھرپور احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے

 جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران ایوانوں سے نکل کر غریب کی کٹیا کا حال دیکھیں، ورنہ عوامی غیظ و غضب کا یہ سیلاب کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گا۔

تعارف: احمد زیب پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی صدر ہیں اور طویل عرصے سے مزدوروں کے حقوق اور صنعتی اصلاحات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں فیڈریشن ملک بھر کے محنت کشوں کی آواز بن کر ابھری ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp