June 6, 2026

پنجاب میں تمام پرانے لیبر قوانین ختم، پنجاب لیبر کوڈ نافذ

 پنجاب میں تمام پرانے لیبر قوانین ختم، پنجاب لیبر کوڈ نافذ

رپورٹ : مدثر خان ( بیورو چیف پنجاب )

 صوبہ پنجاب میں مزدوروں کے حقوق، اجرتوں کے تحفظ اور صنعتی اصلاحات کے حوالے سے ایک انتہائی بڑا اور تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے

پنجاب حکومت نے برطانوی دور اور بعد کے زمانوں سے چلے آنے والے درجنوں پیچیدہ اور الگ الگ لیبر قوانین کو یکسر ختم کرتے ہوئے ایک جامع اور یکجا قانون ‘پنجاب لیبر کوڈ نافذ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے

اس لیبر اصلاحات کا مقصد صوبے بھر میں مینوفیکچرنگ، سروسز اور تجارتی شعبوں سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں کے حقوق کو جدید تقاضوں کے مطابق تحفظ فراہم کرنا ہے۔

صوبائی محکمہ محنت  کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ماضی میں فیکٹریز ایکٹ، پیمنٹ آف ویجز ایکٹ، اور ورکرز کمپنسیشن جیسے متعدد قوانین الگ الگ کام کر رہے تھے، جس کی وجہ سے نہ صرف مالکان بلکہ مزدوروں اور قانونی ماہرین کو بھی شدید الجھن اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا

نئے پنجاب لیبر کوڈ کے تحت ان تمام بکھرے ہوئے قوانین کو ایک ہی دستاویز میں ضم کر دیا گیا ہے اس نئے ضابطہِ قانون کے تحت صوبے میں کم از کم اجرت کی ادائیگی کام کے مقررہ گھنٹے اوور ٹائم کا درست حساب، اور دورانِ ملازمت حادثات کی صورت میں ملنے والے معاوضے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور مزدوروں دونوں کے لیے یکساں آسانیاں پیدا ہوں

دوسری جانب صوبے کی مختلف صنعتی و تجارتی تنظیموں اور چیمبر آف کامرس نے حکومت کے اس اقدام کا اصولی طور پر خیرمقدم کیا ہے

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ قوانین کے اس اتحاد سے کاروبار میں آسانی کو فروغ ملے گا اور فیکٹری مالکان کو انسپکشن راج اور متعدد محکموں کے چکروں سے نجات ملے گی

تاہم بعض تجارتی حلقوں نے یہ تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں کہ نئے کوڈ کے تحت جرمانوں اور سزاؤں کی شرح میں جو اضافہ کیا گیا ہے، اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے اس لیے حکومت کو اس کے نفاذ میں نرمی اور مشاورت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے

تاہم پنجاب کی مرکزی ٹریڈ یونینز اور مزدور رہنماؤں نے اس نئے یکجا قانون پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یونین قیادت کا کہنا ہے کہ قوانین کو ایک جگہ جمع کرنا بلاشبہ ایک اچھا انتظامی قدم ہے، لیکن اصل چیلنج اس قانون کے نچلی سطح پر سخت نفاذ کا ہے

مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رسمی شعبے بالخصوص اینٹوں کے بھٹوں، گھریلو ملازمین اور زرعی مزدوروں کو بھی اس نئے لیبر کوڈ کے دائرہ کار میں لایا جائے اور لیبر انسپکٹرز کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک خود مختار نظام بنایا جائے

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے محنت کشوں کی کم از کم اجرت کو فوری طور پر مقرر کیا جائے تاکہ اس نئے قانون کے حقیقی ثمرات غریب طبقے تک پہنچ سکیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp