July 23, 2026

پائلر کا محنت کشوں کے لیے انسدادِ ہراسانی پر تربیتی سیشن

 پائلر کا محنت کشوں کے لیے انسدادِ ہراسانی پر تربیتی سیشن

رپورٹ، فیصان شیخ

پاکستان کے معاشی اور صنعتی مرکز کراچی میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں، بالخصوص خواتین ورکرز کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ پائلرکے زیرِ اہتمام ایک اہم تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

اس سیشن کا بنیادی مقصد کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کی روک تھام، قوانین سے آگاہی اور محفوظ و باوقار ماحولِ کار کے قیام سے متعلق ورکرز کی تربیت کرنا تھا اس ورکشاپ میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریوں کے متعدد مرد و خواتین ورکرز نے شرکت کی، جن میں سے اکثریت ان کارخانوں میں ملازم ہے جو عالمی سطح کے نامور برانڈز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ملبوسات تیار کر کے برآمد کرتے ہیں۔

تربیتی سیشن کے دوران ایک تشویشناک صورتحال اور انکشاف سامنے آیا کہ آئینی و قانونی زبردست تقاضوں اور بین الاقوامی خریدار برانڈز کے سخت قواعد و ضوابط کے باوجود، اکثر فیکٹریوں میں ‘کام کی جگہ پر خواتین کی ہراسانی کے خلاف تحفظ کے قانون’ کے تحت لازمی طور پر قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹیاں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں

قانون کے مطابق ہر صنعتی و تجارتی ادارے میں ایک تین رکنی انکوائری کمیٹی کا قیام قانونی طور پر لازم ہے، جس کا مقصد ہراسانی کی شکایات کا خفیہ اور فوری ازالہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، عالمی برانڈز کو مال سپلائی کرنے والی فیکٹریوں میں بھی اس بنیادی شرط کی عدم تعمیل پر ورکرز اور لیبر ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے مزدوروں کی حفاظت کے منافی قرار دیا۔

سیشن کے دوران پائلر کے ماہرین نے ورکرز کو ہراسانی کے خلاف موجود ملکی قوانین، کام کی جگہ پر دستیاب تحفظات اور قانونی حقوق کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ محنت کشوں کو بتایا گیا کہ کس طرح زبانی، جسمانی يا اشاروں کے ذریعے ہونے والی ہراسانی قانونی جرم ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ان کا آئینی حق ہے۔

تربیت میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ فیکٹریوں میں شفاف اور مؤثر شکایات کا ازالہ کرنے والے نظام کی موجودگی ہی ورکرز، بالخصوص خواتین کو ہراسانی کے خوف کے بغیر کام کرنے کا اعتماد دے سکتی ہے۔

لیبر رہنماؤں اور سیشن کے انتظامی اراکین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام محنت کشوں کے لیے ایک محفوظ، قابلِ احترام اور باوقار ماحول کی فراہم صرف ایک قانونی ضرورت نہیں بلکہ انسانی حق بھی ہے

عالمی برانڈز اور برآمد کنندگان کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی سپلائی چین کا حصہ بننے والی فیکٹریوں میں لیبر قوانین پر مکمل عملدرآمد اور انسدادِ ہراسانی کمیٹیوں کے باقاعدہ قیام کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

تربیت کے اختتام پر شرکاء نے حاصل کردہ معلومات کو مفید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی فیکٹریوں میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل اور محفوظ ماحولِ کار کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp