July 23, 2026

ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کا ممبرشپ کارڈز کا باقاعدہ آغاز

 ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کا ممبرشپ کارڈز کا باقاعدہ آغاز

رپورٹ ، عمیر شاہ

پاکستان کے غیر رسمی صنعتی اور معاشی شعبے میں دہائیوں سے پس پردہ محنت کرنے والی خواتین ورکرز کے لیے ایک تاریخی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن نے اپنے اراکین کے لیے باقاعدہ ممبرشپ کارڈز کی فراہمی کے سلسلے کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا ممبرشپ کارڈ فیڈریشن کی بانی اور جنرل سیکریٹری، ممتاز لیبر رہنما کامریڈ زہرا خان کو پیش کیا گیا۔

اس تقریب کو ہوم بیسڈ ورکرز بالخصوص گھروں میں بیٹھ کر سلائی، کڑھائی، چوڑی سازی اور دیگر دستی و صنعتی کام کرنے والی لاکھوں خواتین ورکرز کے لیے ایک بڑا اعزاز اور قانونی شناخت کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت میں ہوم بیسڈ خواتین ورکرز کا کردار نہایت اہم ہے، تاہم باضابطہ قوانین اور قانونی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواتین دہائیوں سے کم ترین اجرتوں، غیر انسانی حالاتِ کار اور معاشی استحصال کا شکار رہی ہیں۔

اگرچہ سندھ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ کے تحت انہیں قانونی طور پر مزدور تسلیم کیا ہے، لیکن عملی سطح پر ان کے کوائف کی جمع آوری اور انفرادی شناخت نہ ہونے کے باعث وہ سرکاری و فلاحی سہولیات تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھیں۔

ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی جانب سے ممبرشپ کارڈز کا یہ اجرا خواتین ورکرز کی منظم بنیادوں پر تنظیم سازی اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا

ممبرشپ کارڈ سے نہ صرف ورکر کو فیڈریشن کے رکن کی حیثیت سے ایک منفرد قانونی اور باضابطہ شناخت ملے گی، بلکہ اس کے ذریعے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ، ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی جیسے اداروں سے فلاحی فوائد، وظائف اور صحت کی سہولیات حاصل کرنے میں بھی آسانی پیدا ہوگی

پہلا ممبرشپ کارڈ حاصل کرنے کے بعد فیڈریشن کی جنرل سیکریٹری کامریڈ زہرا خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کارڈ محض ایک شناختی ٹکڑا نہیں بلکہ ہوم بیسڈ ورکرز کی دہائیوں پر محیط جدوجہد، قربانیوں اور کامیابی کی علامت ہے

انہوں نے کہا کہ گھروں میں بیٹھ کر صنعتی پیداوار کا حصہ بننے والی خواتین کو اکثر و بیشتر غیر فعال یا گھریلو خاتون سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا، لیکن اس ممبرشپ کارڈ سے اب انہیں ایک رسمی اور باشعور ‘محنت کش’ کے طور پر قانونی و سماجی قبولیت حاصل ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیڈریشن کا مقصد صوبے کے چپے چپے میں پھیلی تمام ہوم بیسڈ خواتین کو فیڈریشن کا حصہ بنانا اور انہیں ایک مضبوط طاقت بنانا ہے تاکہ وہ آجروں اور قانونی اداروں کے سامنے اپنی کم سے کم اجرت اور دیگر بنیاد حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔

لیبر رہنماؤن اور سماجی ماہرین نے اس پیش رفت کو انتہائی سراہتے ہوئے کہا کہ جب تک غیر رسمی شعبے کے محنت کشوں کو رجسٹرڈ اور منظم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ملک میں حقیقی معاشی انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔

ممبرشپ کارڈز کے اجراء سے خواتین میں نہ صرف خود اعتمادی پیدا ہوگی بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار بنے گا جس سے وہ غیر قانونی کٹوتیوں اور معاشی استحصال کے خلاف اجتماعی طور پر جدوجہد کر سکیں گی۔ فیڈریشن نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کراچی سمیت پورے صوبے میں جلد ممبرشپ ڈرائیو چلا کر ہزاروں خواتین ورکرز کو یہ کارڈز مہیا کیے جائیں گے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp