July 22, 2026

پنجاب لیبر کوڈ کے خلاف پاکستان بھر کے محنت کشوں کا اعلانِ جنگ

 پنجاب لیبر کوڈ کے خلاف پاکستان بھر کے محنت کشوں کا اعلانِ جنگ

رپورٹ ، زمان سیف

پاکستان کے اقتصادی بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ میں پسے ہوئے محنت کش طبقے نے بالآخر حکومت اور کارپوریٹ سیکٹر کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا بگل بجا دیا ہے

ملتان پریس کلب میں منعقدہ ایک روزہ قومی مشاورت کے دوران ملک بھر اور خصوصاً جنوبی پنجاب سے آئے ہوئے مزدور رہنماؤں نے پنجاب لیبر کوڈ کو مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور ملک گیر تحریک چلانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے

یہ اہم کانفرنس ‘انڈسٹری آل گلوبل یونینسے منسلک پانچ بڑی لیبر فیڈریشنز، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ، آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز، پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن، اور اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی

اجلاس کی صدارت انڈسٹری آل گلوبل یونین (ٹیکسٹائل سیکٹر) کی کو-چیئر اور ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری زہرہ خان نے کی۔

مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصر منصور، زہرہ خان، ضیاء سید اور نثار شاہ سمیت دیگر مزدور رہنماؤں نے ملک میں نقابی بنیادوں پر ختم ہوتی ٹریڈ یونین آزادی پر شدید تشویش کا اظہار کیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں ٹریڈ یونین بنانے کے آئینی حق کو عملاً جرم بنا دیا گیا ہے اور مزدوروں کو منظم کرنے کی کوششوں کو ریاست مخالف سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں 90 فیصد سے زائد ورکرز کم از کم قانونی اجرت، سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹس جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

ملک کے صنعتی و تجارتی کارخانوں کو “جدید دور کے جبری مشقت کے کیمپوں” میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں بین الاقوامی قوانین اور خود پاکستان کے اپنے آئین کی کھلم کھلا ورزی کی جا رہی ہے۔

کانفرنس کے شرکاء نے حکومت کے مجوزہ پنجاب لیبر کوڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون غیر قانونی کنٹریکٹ لیبر سسٹم کو دوام بخشنے اور ورکرز کے بچے کھچے حقوق چھیننے کا نام نہاد طریقہ ہے۔ مزدور رہنماؤں نے حکومت پر عالمی مالیاتی فنڈاور عالمی بینک کی ایماء پر عوام دشمن پالیسیاں نافذ کرنے کا الزام عائد کیا، جس کی وجہ سے نہ صرف بنیادی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں بلکہ پبلک سیکٹر کی نجکاری کے نام پر ہزاروں خاندانوں سے روزگار چھینا جا رہا ہے۔

اجلاس میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کی 9 کروڑ کی کل لیبر فورس میں سے تقریباً 4 کروڑ افراد صنعتی اور خدمات کے شعبے سے وابستہ ہیں

مالکان ہر ماہ کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی اور حقوق کی پامالی کے ذریعے مزدوروں کی جیبوں سے 4 کھرب روپے سے زائد کا ‘اجرت ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی، پینشن، بونس، اوور ٹائم اور گریجویٹی کی مد میں سالانہ کھربوں روپے ہضم کر لیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں پاکستان کی سب سے بڑی صنعت اور کل برآمدی آمدن کے 60 فیصد سے زائد کی ذمہ دار ‘ٹیکسٹائل و گارمنٹس انڈسٹری’ کے شدید بحران پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین کے مطابق حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری مسلسل زوال پذیر ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں ٹیکسٹائل ورکرز کو جبرًا ملازمتوں سے نکال کر سڑک پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ پاکستان نے بین الاقوامی ادارہ محنت  کے تین درجن سے زائد کنونشنز اور یورپی یونین کے ‘جی ایس پی پلس تجارتی معاہدے کی توثیق کر رکھی ہے، لیکن عملی طور پر وہ اپنے تمام بین الاقوامی لیبر تعہدات کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر محنت کش رہنماؤں نے درج ذیل اہم مطالبات منظور کیے جن میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب لیبر کوڈ کا خاتمہ: مزدور دشمن پنجاب لیبر کوڈ اور غیر قانونی کنٹریکٹ لیبر سسٹم کا فوری خاتمہ کیا جائے

پنجاب میں تمام زمروں کے ورکرز کے لیے کم از کم اجرت کی فوری شرح مقرر اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تمام صنعتی و خانگی ورکرز کی سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں لازمی رجسٹریشن کی جائے اور تحریری اپائنٹمنٹ لیٹر دیے جائیں۔

ٹریڈ یونینز بنانے اور اجتماعی سودے کاری پر عائد تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ پاکستان ریلوے میں یونین ریفرنڈم کا فوری اعلان کیا جائے قومی اداروں اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی نجکاری کا عمل سست یا مکمل بند کیا جائے کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور خواتین کے خلاف امتیازی قوانین منسوخ کیے جائیں پاکستان سے کپڑے تیار کروانے والے عالمی فیشن برانڈز اپنے مقامی سپلائرز کے کارخانوں میں لیبر اسٹینڈرڈز کا نفاذ یقینی بنائیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp