کیا محنت کش اپنی زبوں حالی کا خود ذمہ دار ہے؟
قاضی تحسین احمد ہاشمی
استحصال، طبقاتی کشمکش اور معاشی ناانصافی کی یہ کہانی جتنی پرانی ہے، اتنا ہی یہ سوال آج کے جدید اور مشینی دور میں بھی ذہنوں کے بند کواڑ کھٹکھٹاتا ہے کہ آخر مزدور اور محنت کش طبقہ صدیوں سے پسماندگی کی دلدل میں کیوں دھنسا ہوا ہے؟
عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ سرمایہ دار نے ہمیشہ مزدور کا خون چوسا، ریاستی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کیا اور محنت کش کو ہمیشہ سسکتی حالت میں رکھا۔ لیکن اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا اس بدحالی کا ذمہ دار صرف بیرونی نظام اور سرمایہ دار ہے، یا پھر اس ذلت کا کچھ حصہ خود محنت کش کے اپنے رویوں، خوف اور کمزوریوں کے کندھوں پر بھی ہے؟
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر بات کرنا آسان نہیں۔ سرمایہ دار کے ہتھکنڈوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف وسائل پر قابض ہے بلکہ محنت کی قیمت اجرت کا تعین بھی اپنی مرضی سے کرتا ہے تاکہ اس کا منافع ہمیشہ بڑھتا رہے
وہ جانتا ہے کہ اگر محنت کش معاشی طور پر خود کفیل ہو گیا، تو اس کی غلامی چھوڑ دے گا۔ لہٰذا، وہ مزدور کو مسلسل گھریلو جھگڑوں، قرضوں کے بوجھ اور ملازمت سے نکالے جانے کے خوف میں الجھائے رکھتا ہے تاکہ وہ کبھی یہ نہ سوچ سکے کہ اس کا اصل معاشی دشمن کون ہے۔ یہاں تک کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے بننے والی ٹریڈ یونینز کو بھی خرید کر اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے
لیکن اس بظاہر مضبوط نظام کے باوجود، کیا مزدور خود قصوروار نہیں ہے؟ اس تلخی کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا ایک گہرا علامتی واقعہ بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لاطینی امریکہ کے عظیم انقلابی رہنما چے گویرا اپنی جدوجہد کے دوران گرفتار ہوئے،
تو انہوں نے اس مقامی مخبر سے پوچھا جس نے چند پیسوں کے عوض ان کا ٹھکانہ دشمن فوج کو بتایا تھا کہ “تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ تمہیں تو میرا ساتھ دینا چاہیے تھا، تم نے مجھے کیوں بیچا؟” اس غریب مخبر نے بڑے سادہ لہجے میں جواب دیا: “چے جی! میں ایک غریب بکری چرانے والا آدمی ہوں۔
آپ جب جنگل میں سرمایہ داروں کی فوج سے لڑتے ہیں تو گولیوں کی آواز سے میری بکریاں ڈر کر بھاگ جاتی ہیں اور بکھر جاتی ہیں۔ بکریاں ہی میرا واحد روزگار اور میرا گھر بار ہیں۔ آپ کی اس بڑی جنگ کی وجہ سے میری بکریاں مر گئیں تو میں کیا کھاؤں گا؟ مجھے معاف کرنا، لیکن میں اپنی بکریوں کو بچانے کی خاطر آپ کو بیچنے پر مجبور تھا
یہ کہانی آج کے ہر محنت کش کے دل کی حقیقی دھڑکن اور اس کے اندرونی خوف کو بے نقاب کرتی ہے۔ آج کا مزدور بھی اکثر اپنی چھوٹی چھوٹی بکریوں یعنی تنخواہ میں چند ہزار کے اضافے، چند دن کی چھٹی، مالک کی ایک مصنوعی مسکراہٹ، یا صرف یہ خوف کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے، کے پیچھے بھاگ رہا ہے
اسی عارضی فائدے اور خوف کے چکر میں وہ اپنا بڑا مقصد، اپنی اجتماعی طاقت، اتحاد اور حقیقی قانون کا نفاذ بھول جاتا ہے سرمایہ دار بالکل یہی چاہتا ہے کہ مزدور انفرادی الجھنوں میں پھنسا رہے اور کبھی متحد ہو کر بغاوت نہ کرے
تو کیا اس صورتحال میں محنت کش بالکل بے بس ہے؟ ہرگز نہیں محنت کش اپنی زبوں حالی کا واحد ذمہ دار نہیں، لیکن وہ اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری الذمہ بھی نہیں ہو سکتا
جب تک وہ اپنی عارضی مراعات کے لیے اپنی عزتِ نفس اور اتحاد کو قربان کرتا رہے گا، سرمایہ دار اسے اسی طرح کوڑیوں کے دام خریدتا رہے گا۔
اس غلامی سے نکلنے کے لیے محنت کش طبقے کو چند اہم راستے اپنانے ہوں گے۔ سب سے پہلے تعلیم اور شعور کا حصول لازم ہے تاکہ وہ اپنے حقوق اور معاشی نظام کو سمجھ سکے۔
دوسرا قدم اتحاد ہے، کیونکہ اکیلا مزدور کبھی نظام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تیسرا یہ کہ مزدور کو نوکری کے خوف سے نکل کر طویل مدتی سوچ اپنانی ہوگی اور اپنی چھوٹی خواہشات کو بڑی جدوجہد کے آڑے نہیں آنے دینا ہوگا۔
آخر میں ایسی حقیقی اور خود مختار یونینز بنانا ہوں گی جو سرمایہ دار کی کٹھ پتلی بننے کے بجائے صرف اور صرف مزدور کی مرضی کی ترجمان ہوں۔
محنت کش کی بدحالی کا اصل ذمہ دار بے شک وہ ظالمانہ نظام ہے جسے سرمایہ دار نے اپنے حق میں بنایا ہے، مگر اس نظام کو بدلنے کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ محنت کش خود اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور بکریوں کے خوف کے جال سے باہر نکلے۔
جب وہ جاگے گا، متحد ہوگا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوگا، تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا استحصال نہیں کر سکے گی۔ بکریاں تب تک آپ کی غلامی کی علامت ہیں جب تک آپ انہیں اپنی اجتماعی آزادی پر ترجیح دیتے ہیں۔ حقیقی آزادی وہ ہے جہاں نہ سرمایہ دار کا ڈر ہو اور نہ ہی عارضی مفادات کی بیڑیاں
تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں
