July 24, 2026

 وفاقی بجٹ : ٹیکسٹائل صنعت کو بچانے کے لیئے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ

  وفاقی بجٹ : ٹیکسٹائل صنعت کو بچانے کے لیئے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ

رپورٹ ( حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )

پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور اس شعبے سے منسلک چھ دیگر بڑی تجارتی ایسوسی ایشنز نے مالی سال 2026-27 کے آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ خزانہ کو مشترکہ تجاویز پیش کر دی ہیں۔

 وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی یونٹ نے ان دستاویزی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جن میں مقامی صنعت کو بچانے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت بحال کرنے کے لیے ڈیوٹیز میں نمایاں کمی اور پولی ایسٹر اسٹیپل فائبر پر عائد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

صنعت کی جانب سے جمع کرائی گئی مشترکہ بجٹ تجاویز کے مطابق، اس وقت پولی ایسٹر اسٹیپل فائبر پر 7 فیصد بنیادی کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے۔

اس کے علاوہ، چین سے ہونے والی درآمدات پر 11.51 فیصد تک، جبکہ چینی تائیوان، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 12.47 فیصد تک کی بھاری اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز نافذ ہیں۔ ٹیکسٹائل مالکان کا مؤقف ہے کہ ان حفاظتی ٹیکسوں نے ملکی مارکیٹ میں شدید تجارتی بگاڑ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ خام مال کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں

اس کا سب سے بڑا منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں مَین میڈ فائبر یعنی مصنوعی دھاگے کی مارکیٹ تیزی سے مقبول اور زیادہ منافع بخش ہو رہی ہے، وہاں پاکستان اب بھی روایتی طور پر زیادہ تر کپاس کاسٹڈ کاٹن پر مبنی برآمدات پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہے، جس سے عالمی برآمدی حجم میں پاکستان کا حصہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔

تجاویز میں اس تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں برآمدی شعبے پر مجموعی ٹیکسوں کا بوجھ علاقائی اور عالمی مسابقتی معیشتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

اگرچہ ملک میں عام کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد مقرر ہے، تاہم برآمدکنندگان پر مختلف قسم کی اضافی لیویز اور فنڈز کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ ان اضافی ٹیکسوں میں سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ اور پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے واجبات شامل ہیں۔

ٹیکسٹائل تنظیموں کے مطابق، ان تمام اضافی صوبائی و وفاقی ذمہ داریوں اور ٹرن اوور پر عائد 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ملا کر برآمدکنندگان کے لیے مجموعی مؤثر ٹیکس کی شرح بڑھ کر 68.27 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ، سابقہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے برآمدات کو فائنل ٹیکس رجیم  سے نکال کر مینیمم ٹیکس رجیم میں تبدیل کرنے کے اقدام نے کاروباری پائیداری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ میں برآمدکنندگان کو درپیش سرمائے کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس ایڈوانس کی مد میں ان پر دوہرا بوجھ ہے۔ انڈسٹری پر کسٹمز ایکٹ کے تحت سیکشن 154 کے تحت 1 فیصد مینیمم ایڈوانس ٹیکس اور پھر سیکشن 147 کے تحت مزید 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد ہے، جس نے برآمدی کمپنیوں کا ورکنگ کیپیٹل مکمل طور پر جام کر دیا ہے۔

سب سے دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ جہاں عالمی منڈی سے زرِ مبادلہ کمانے والے برآمدکنندگان پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، وہاں ملکی مارکیٹ کے لیے کپڑا بنانے والے مقامی مینوفیکچررز صرف 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی برآمدات کو بچانے کے لیے اس امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے، ٹیکسز کی شرح کو منطقی بنایا جائے اور خام مال پر ڈیوٹیز ختم کی جائیں تاکہ ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر بنگلہ دیش اور بھارت کا مقابلہ کر سکے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp