وفاقی بجٹ میں فروٹ جوس انڈسٹری کو ٹیکس ریلیف دینے پر غور
اسلام آباد( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) حکومتِ پاکستان آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں فروٹ جوس انڈسٹری کے لیے ایک نئی قابلِ عمل تجارتی پالیسی پر غور کر رہی ہے
جس کے تحت اضافی سوکروز یا سفید چینی کے بغیر تیار ہونے والے نئے جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی صفر یا انتہائی کم شرح پر عائد کی جا سکتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم منڈوی والا نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے، جبکہ وزارتِ خزانہ کا ٹیکس پالیسی یونٹ اس کا جائزہ لے رہا ہے
فروٹ جوس کونسل کے مطابق سال 2023-24 کے بجٹ میں جوسز پر اچانک 20 فیصد ایف ای ڈی جو کہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ ہے نافذ کیے جانے کے بعد سے دستاویزی انڈسٹری کی فروخت میں 50 فیصد تک بڑی کمی واقع ہوئی ہے،
جس سے سال 2025 میں اس کا سالانہ کاروباری حجم سکڑ کر 40 ارب روپے رہ گیا ہے۔ ٹیکسوں کے اس بھاری بوجھ کے باعث کسانوں سے پھلوں کی خریداری کا حجم آدھا رہ گیا ہے اور مارکیٹ کا 20 فیصد حصہ غیر مستند و غیر دستاویزی کمپنیوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، جس سے حکومتی ریونیو کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
صنعت نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ جوسز پر ایف ای ڈی 20 سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے اور کسانوں کے معاشی تحفظ کے لیے فروٹ سیکٹر کو فزی یا کاربونیٹڈ ڈرنکس کی کیٹیگری سے الگ کیا جائے۔
