برصغیر میں ٹریڈ یونین تحریک ایک صدی کا قصہ
اسرار ایوبی
————
برصغیر میں ٹریڈ یونین تحریک محض چند برسوں کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک صدی پر محیط طویل جدوجہد، قربانیوں اور تاریخی ارتقا کا قصہ ہے۔ ہندوستان میں مزدوروں کو منظم کرنے کی اس تحریک کو 1917 کے روسی انقلاب اور 1919 میں عالمی ادارہ محنت کے قیام سے زبردست تقویت ملی
اس دور میں یعنی 1920 سے 1924 کے درمیان ابھرنے والے صنعتی تنازعات کے نتیجے میں مختلف کارخانوں میں ایک ہزار سے زائد ہڑتالیں ہوئیں۔ سب سے پہلے بمبئی، کلکتہ، مدراس اور سورت جیسے بندرگاہی صنعتی شہروں کے ٹیکسٹائل ملز ورکرز میں بے چینی کا آغاز ہوا
ہندوستان کی پہلی منظم مزدور تنظیم قائم کرنے کا اعزاز بمبئی ملز ہینڈز ایسوسی ایشن کو جاتا ہے جسے 1884 میں معروف مزدور رہنما نارائن میگھاجی لوکھنڈے نے قائم کیا تھا، جنہیں ہندوستان میں بابائے ٹریڈ یونین تحریک کہا جاتا ہے
ان کا مقصد اوقاتِ کار کم کرنا اور ہفتہ وار تعطیل مقرر کرانا تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں بمبئی کی ٹیکسٹائل صنعت میں جابر سسٹم رائج تھا، جہاں ٹھیکیدار مزدوروں کو کنٹرول کرتے تھے۔ بعد ازاں، 1918 میں ایک صوفی عارف بہمن پیسٹن جی واڈیا نے مدراس ٹیکسٹائل لیبر یونین قائم کی، جو ہندوستان کی پہلی رجسٹرڈ ٹریڈ یونین تسلیم کی جاتی ہے۔ 1920 میں پہلی فیڈریشن ‘آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس’ وجود میں آئی
بیسویں صدی کی ابتداء میں صنعتی ترقی کے ساتھ ہی برطانوی ہند حکومت نے انڈین ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 نافذ کیا، جس کے تحت تنظیم سازی کے قواعد مقرر ہوئے
اس قانون کے نفاذ کے بعد جنوری 1926 میں نارائن ملہار جوشی نے بمبئی ٹیکسٹائل لیبر یونین قائم کی، جو اس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونے والی پہلی یونین بنی۔ اس قانون کو اب سو برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس کی منظوری میں برصغیر کے عظیم سیاستدان اور ماہرِ قانون بیرسٹر محمد علی جناح کا کلیدی کردار تھا
قائد اعظم مرکزی قانون ساز اسمبلی کے نمایاں رکن اور محنت کشوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ وہ 1925 میں 70 ہزار ارکان پر مشتمل آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے اسمبلی میں مزدوروں کے لیے باوقار اجرت اور منصفانہ حالاتِ کار کے حصول کے لیے بھرپور آواز بلند کی
جس کے نتیجے میں ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کو قانونی تحفظ ملا۔ 1947 تک ہندوستان میں 2,766 رجسٹرڈ یونینز موجود تھیں جن کی رکنیت 16 لاکھ سے زائد تھی۔
اگست 1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت ملک کو ایک انتہائی پیچیدہ معاشی ڈھانچہ ورثے میں ملا۔ پاکستان کے حصے میں صرف 1079 صنعتی ادارے آئے، جہاں فرسودہ مشینری اور ناتجربہ کار افرادی قوت تھی۔ اس وقت خطے میں صرف 75 رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز تھیں
جن میں 1919 میں قائم ہونے والی کراچی پورٹ ٹرسٹ لیبر یونین کو اولین ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ دسمبر 1947 میں پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا، جس کے صدر مرزا ابراہیم اور ڈاکٹر اے ایم مالک جنرل سیکریٹری بنے اور پھر 1953 میں پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن کے قیام سے ملک میں بڑے کارخانے قائم ہونا شروع ہوئے
پاکستان میں مزدور قوانین کا ارتقا آئینِ پاکستان میں دی گئی ضمانتوں پر مبنی ہے، جو اسلامی اصولِ عدلِ اجتماعی کو برقرار رکھتا ہے۔ 1973 کے آئین کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو انجمن سازی اور یونین کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے،
جبکہ جبری مشقت اور بچوں سے مزدوری پر پابندی عائد کرتا ہے۔ ملک میں حقیقی ٹریڈ یونین ازم کے فروغ اور صنعتی تنازعات کے حل کے لیے 1972 کی لیبر پالیسی کے تحت ایک نیم عدالتی ادارہ قومی صنعتی تعلقات کمیشن قائم کیا گیا
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کی تعداد 7,000 سے زائد ہے، جن میں سے تقریباً 945 سے 1,390 کے درمیان فعال ہیں اور ان کی مجموعی رکنیت 14 سے 18 لاکھ تک ہے
اس لحاظ سے پاکستان کی 8 کروڑ سے زائد افرادی قوت میں سے صرف 2 سے 3 فیصد مزدور ہی ٹریڈ یونینوں سے وابستہ ہیں
گزرتے وقت کے ساتھ صنعتی اداروں میں ٹھیکیداری نظام تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بہت سی یونینز غیر فعال ہو گئیں اور وہ اجتماعی سودے کاری ایجنٹ کا درجہ بھی کھو بیٹھی ہیں۔
پاکستان 1947 سے عالمی ادارہ محنت کا سرگرم رکن ہے اور اس نے آزادیِ انجمن کے کنونشن 87 اور 98 سمیت 36 بین الاقوامی عہد ناموں کی توثیق کی ہے مگر عملی طور پر حکومتیں ان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہیں
آج کی ٹریڈ یونین تحریک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ملکی افرادی قوت کا تقریباً 70 فیصد حصہ غیر رسمی شعبے زراعت، ماہی گیری، ٹرانسپورٹ، گھریلو کام سے منسلک ہے
جہاں لیبر قوانین کا کوئی نفاذ نہیں۔ 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد شعبہ محنت صوبائی موضوع بن چکا ہے، جس کے بعد پنجاب اور سندھ جیسے صوبوں نے اپنے الگ لیبر کوڈز تشکیل دیے ہیں، تاہم یونین سازی کی شرح میں اضافہ اب بھی مایوس کن ہے
آج بدترین معاشی بحران اور روزگار کے عدم تحفظ کے اس دور میں، ملک کی معاشی خودمختاری اور مزدوروں کے باوقار معیارِ زندگی کے لیے ٹریڈ یونینوں کے کردار کو قانون پر سختی سے عملدرآمد کرا کے فعال بنانا ناگزیر ہو چکا ہے
ٹریڈ یونین ایکٹ کے سو برس مکمل ہونے پر اس زبوں حالی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے
