May 28, 2026

سندھ کے لاکھوں مزدور سوشل سیکیورٹی سے محروم کیوں؟

 سندھ کے لاکھوں مزدور سوشل سیکیورٹی سے محروم کیوں؟

خالد خان

———

پاکستان کا معاشی حب اور سندھ کا صنعتی نیٹ ورک ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اسی صنعتی پہیے کو اپنی محنت اور خون پسینے سے چلانے والا مزدور آج تاریخ کے بدترین معاشی بحران، کمر توڑ مہنگائی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ایکٹ 2016ء اور سابقہ صوبائی ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965ء کے تحت ہر وہ صنعتی، تجارتی یا کاروباری ادارہ جہاں پانچ یا اس سے زائد مزدور کام کرتے ہوں، وہاں قانوناً سوشل سیکیورٹی کا نفاذ لازم ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ قوانین کی موجودگی اور اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کے باوجود سندھ کے لاکھوں محنت کش اس بنیادی حق سے محروم ہیں

سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کا بنیادی اور آئینی مقصد محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو مفت علاج، معیاری میڈیکل سہولیات، بیماری الاؤنس، دورانِ ڈیوٹی حادثات کی صورت میں معاوضہ، مستقل معذوری اور زچگی کے دوران سماجی و مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

 جب ایک مزدور فیکٹری میں اپنا خون پسینہ بہاتا ہے، تو اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اسے اور اس کے بچوں کو پیٹ کی بھوک اور بیماری کے خوف سے نجات ملے۔ مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ کاغذی دعووں کے برعکس، رجسٹریشن کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے اور صوبے کا ایک بڑا مزدور طبقہ اب بھی اس سیکیورٹی نیٹ سے باہر سڑکوں پر خوار ہو رہا ہے

حالیہ دنوں میں سندھ ہائی کورٹ نے اپنے متعدد تاریخی فیصلوں میں سوشل سیکیورٹی حکام کو واضح طور پر پابند کیا ہے کہ وہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اور زیادہ سے زیادہ مزدوروں کی رجسٹریشن کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائیں۔

عدالتِ عالیہ کے ان احکامات کے بعد اب سندھ حکومت، وزیر محنت، کمشنر سوشل سیکیورٹی اور ادارے کی گورننگ باڈی پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ روایتی سستی چھوڑ کر میدان میں آئیں۔

 گورننگ باڈی کا اصل کام صرف سالانہ اجلاس کرنا نہیں، بلکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی کا کڑا جائزہ لینا، رجسٹریشن کے عمل کو مؤثر بنانا، کرپشن کا خاتمہ اور انسپیکشن کے فرسودہ نظام کو جدید و فعال بنانا ہے

اس وقت سندھ بھر میں محنت کشوں کو ان کا جائز حق دلانے کے لیے فوری طور پر درج ذیل انقلابی اقدامات اٹھاتے ہوئے سندھ کے تمام چھوٹے بڑے صنعتی و تجارتی زونز کا نئے سرے سے جامع سروے کیا جائے اور غیر رجسٹرڈ اداروں کو فوری طور پر قانون کے دائرے میں لایا جائے۔

ہر ضلع کی سطح پر بااختیار انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو فیکٹریوں کا اچانک دورہ کر کے مزدوروں کی اصل تعداد کا تعین کریں

جو سرمایہ دار اور کارخانہ دار اپنے منافع کے لیے مزدوروں کو رجسٹرڈ نہیں کرتے اور ان کا کارڈ نہیں بنواتے، ان کے خلاف لیبر قوانین کے تحت سخت فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 سیسی  کے زیرِ انتظام چلنے والے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی حالتِ زار کو سدھارا جائے، جہاں ادویات کی قلت اور ڈاکٹروں کے ناروا سلوک کی شکایت عام ہے۔

رجسٹریشن اور نگرانی کے اس پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے حقیقی ٹریڈ یونینز کے نمائندوں کو شامل کیا جائے تاکہ کوئی بھی ادارہ گٹھ جوڑ کے ذریعے مزدور کا حق نہ مار سکے

اگر سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے اب بھی خوابِ خرگوش سے نہ جاگے، تو مزدوروں کی یہ محرومی ایک بڑے صنعتی احتجاج اور مزدور تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے فیصلوں کا احترام اور سوشل سیکیورٹی قوانین کا مکمل نفاذ ہی ملک کی صنعتی بقا کی واحد ضمانت ہے۔


تعارف :  خالد خان اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی مزدورتنظیم نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں، آپ پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر، نڈر اور انتہائی متحرک نام ہیں۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق، لیبر قوانین کے نفاذ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صفِ اول میں رہ کر جدوجہد کر رہے ہیں خالد خان کی قیادت میں این ایل ایف کراچی نے صنعتی مزدوروں، کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاکہ پاکستان کے غریب مزدور کو اس کا آئینی اور قانونی مقام مل سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp