May 28, 2026

انڈونیشیا میں اگلے 3 ماہ میں 9 ہزار محنت کشوں کی برطرفی کا خدشہ

 انڈونیشیا میں اگلے 3 ماہ میں 9 ہزار محنت کشوں کی برطرفی کا خدشہ

جکارتا( لیبر نیوز فارن ڈیسک ) انڈونیشیا کی سب سے بڑی لیبر یونین کنفیڈریشن آف انڈونیشین ٹریڈ یونینز نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے مینوفیکچرنگ بحران کے نتیجے میں اگلے تین ماہ کے دوران ملک میں کم از کم 9,000 صنعتی ورکرز بے روزگار ہو سکتے ہیں

یونین کے صدر سید اقبال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جاوا کے مختلف صنعتی صوبوں بشمول بنتن، مغربی جاوا اور مشرقی جاوا میں قائم 10 بڑی ٹیکسٹائل اور جوتے بنانے والی فیکٹریاں اخراجات میں کمی کے لیے بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ یا مکمل بندش پر غور کر رہی ہیں

مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے مئی سے صنعتی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے لاگتِ پیداوار کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث ‘سانیو’ کی سابقہ کمپنی الیکٹرانکس پلانٹ سمیت کئی فیکٹریاں رواں ماہ مستقل بند ہو چکی ہیں۔ ورکرز یونین نے حکومت سے صنعتی تحفظ کی ہنگامی اپیل کی ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp