May 28, 2026

بجلی کا نیا 10 سالہ پلان تنازع کا شکار ایف پی سی سی آئی نے آئی ایس پی 2025-35 مسترد کر دیا

 بجلی کا نیا 10 سالہ پلان تنازع کا شکار ایف پی سی سی آئی نے آئی ایس پی 2025-35 مسترد کر دیا

کراچی ( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )  فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری  نے حکومت کے 10 سالہ انٹیگریٹڈ سسٹم پلان آئی ایس پی 2025-35 کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نیپرا میں تحریری تحفظات جمع کرا دیے ہیں

بزنس کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ بجلی کے ٹیرف میں ہولناک اضافے اور پہلے ہی دم توڑتی ملکی صنعتوں کی تباہی کا باعث بنے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق، منصوبے میں استعمال ہونے والا ‘پلکسوس ماڈل’ غلط مفروضات اور ناقص لاگت کے تخمینوں پر مبنی ہے، جبکہ ٹرانسمیشن کے 10.6 ارب ڈالر کے اخراجات بھی چھپائے گئے ہیں۔

تنظیم نے سوال اٹھایا کہ 57 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود صارفین کو 49 روپے فی یونٹ بجلی کیوں خریدنی پڑے گی

ایف پی سی سی آئی نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پلان کو مسترد کر کے دوبارہ تیاری کے لیے واپس بھیجے، جبکہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی ہائیڈرو پاور منصوبوں کی لاگت میں اضافے پر واپڈا حکام کی سخت سرزنش کی ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp