کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحران کا شکار

رپورٹ ( عثمان صادق، نمائندہ لیبر نیوز فیصل آباد )
پاکستان کی معیشت کے سب سے بڑے اور اہم ترین برآمدی شعبے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ شدید مالی اور آپریشنل دباؤ کے باعث ملکی صنعت ڈوب رہی ہے
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے اپنی مشترکہ سفارشات پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان تجاویز کو نافذ نہ کیا تو ملک کا سب سے بڑا ایکسپورٹ اورینٹڈ سیکٹر مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا
پی ایچ ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے بجٹ تجاویز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاگت میں استحکام اور صنعتی بقا کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کے نرخ 9 سینٹ فی کلوواٹ آور اور آر ایل این جی کی قیمت 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر مقرر کی جائے اور ان قیمتوں کو اگلے 5 سالوں کے لیے مکمل طور پر منجمد کیا جائے
صنعت کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ برآمدی شعبوں کے لیے حالیہ نارمل ٹیکس رجیم کو فوری ختم کر کے پرانی فائنل یا فکسڈ ٹیکس رجیم کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی برآمدات پر عائد سپر ٹیکس کا خاتمہ، مقامی ٹیکسز اور لیویز کے ڈیوٹی ڈرا بیک کی بحالی، اور سیلز ٹیکس کے معاملے میں زیرو ریٹنگ کا نفاذ ناگزیر ہے
تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت برقرار رہ سکے۔ انہوں نے موجودہ 11.50 فیصد شرح سود کو بھی سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کیا تاکہ صنعتی سرمایہ کاری ممکن ہو سکے
ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اس وقت درپیش سب سے بڑے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے احمد افضل اعوان نے انکشاف کیا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ریبیٹ اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی مد میں برآمد کنندگان کے تقریباً 327 ارب روپے کے واجب الادا کلیمز حکومت کے پاس پھنسے ہوئے ہیں۔
اس شدید لکویڈٹی سرمائے کے بحران نے کارخانوں کے لیے روزمرہ کے پیداواری عمل کو جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی پہیہ بغیر کسی تعطل کے چلانے کے لیے یہ زیر التوا ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور ایک 5 سالہ مستقل ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا جائے جس میں سیاسی تبدیلیوں کے باوجود تسلسل برقرار رہے
آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عارف احسن ملک نے ملکی کاروباری ماحول کی سنگین تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایک عام صنعت کار کو روزانہ کی بنیاد پر لگ بھگ 25 مختلف سرکاری محکموں، انسپکٹروں اور بیوروکریسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
جو کاروباری معاملات میں شدید الجھنیں اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ کے تحت ایک جامع اور مربوط ڈیجیٹل ون ونڈو پورٹل قائم کرے جہاں تمام امور ایک ہی جگہ حل ہوں
انہوں نے شکوہ کیا کہ انڈسٹری پہلے ہی تقریباً 60 فیصد تک کے بھاری ٹیکس ادا کر رہی ہے، اس کے باوجود مزید مالی بوجھ لادنا صنعت کو بند کرنے کے مترادف ہے
پی ایچ ایم اے کے گروپ لیڈر چوہدری سلامت علی نے توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی صرف صنعتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے
بلکہ عام صارفین کے لیے بھی ٹیرف کم کیا جائے کیونکہ بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کی قوتِ خرید اور تاجر برادری دونوں کو یکساں طور پر تباہ کر دیا ہے
