کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
جنوب مشرقی ایشیا میں مزدوروں کو خطرات، لیبر سوسائٹی کا احتجاج

جکارتا ( لیبر نیوز فارن ڈیسک) جنوب مشرقی ایشیا کی ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے مجوزہ آسیان ڈیجیٹل اکانومی فریم ورک ایگریمنٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ بگ ٹیک کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دے کر حکومتوں کے عوامی مفاد اور مزدوروں کے حقوق کی قانون سازی کی صلاحیت کو سلب کر سکتا ہے
پبلک سروسز انٹرنیشنل ایشیا پیسیفک اور دیگر تنظیموں کے زیرِ اہتمام ویبنار میں پالیسی ماہرین اور لیبر رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ڈی ای ایف اے کے مذاکرات میں شفافیت کا شدید فقدان ہےماہرین کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور الگورتھم کے ذریعے محنت کشوں کی نگرانی اور معاوضوں کی کٹوتی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں،
جبکہ یہ معاہدہ ڈیٹا کی سرحد پار منتقلی اور سورس کوڈ پر سے حکومتی نگرانی ختم کر کے کارپوریٹ اجارہ داری قائم کرے گا تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے کا متن عام کیا جائے، مزدوروں کی مشاورت شامل کی جائے اور ڈیٹا و مزدور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
