وطن دوست مزدور فیڈریشن کا پاور کمپنی کے ورکرز کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
پنجاب میں مزدوروں کی اجرت اور پنشن کا بحران: قانونی تحفظ کی عدم موجودگی
سرور بابا
پنجاب کے صنعتی اور تجارتی شعبے سے وابستہ لاکھوں محنت کش اس وقت شدوا مد کے ساتھ ایک سنگین معاشی بحران کی لہر کا سامنا کر رہے ہیں ایک طرف روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو نگل رہا ہے
تو دوسری جانب صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنر مند، نیم ہنر مند، ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مند ورکرز کے ساتھ ساتھ ریٹائرڈ اور معمر پنشنرز کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے
صوبے میں رائج قانونی ڈھانچے بالخصوص ‘پنجاب کم از کم اجرت کے قانون 2019 کے نفاذ اور اس کے مطابق تنخواہوں میں باقاعدہ ترمیم کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور اس سے منسلک کم از کم اجرتی بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔
تاہم موجودہ مالیاتی اور معاشی حالات کے تناظر میں یہ دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوتی ہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری شعبوں اور اعلیٰ حکام کی مراعات اور تنخواہوں میں تو وقتاً فوقتاً اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن ملک کی معاشی ترقی کا چرخہ چلانے والے مزدور اور صنعتی محنت کشوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پنجاب میں رائج کم از کم اجرت کے قانون 2019 کے بنیادی آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق صوبائی کم از کم اجرتی بورڈ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی کی شرح اور معاشی اشاریوں کا باقاعدہ اور بروقت جائزہ لے
بورڈ کے تمام متعلقہ اراکین کی باقاعدہ نشستیں بلائی جانی چاہئیں تا کہ تمام زمروں غیر ہنر مند، نیم ہنر مند، ہنر مند اور انتہائی ہنر مند کی تنخواہوں کی شرح میں متناسب اور منصفانہ اضافے کی سفارشات تیار کر کے حکومتِ پنجاب کو پیش کی جائیں
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام قانونی طریقہ کار اور روایات موجود ہونے کے باوجود اجرتی بورڈ کے ممبران کا کوئی ہنگامی اجلاس طلب نہیں کیا گیا اور نہ ہی حکومت کو تنخواہوں کے ازسرنو تعین کے لیے کوئی باضابطہ تجاویز بھیجی گئی ہیں
اس قانونی و انتظامی غفلت کا خمیازہ سیدھا ان محنت کشوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جن کی اجرتیں ایک جگہ منجمد ہو چکی ہیں، جبکہ ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی یعنی خوراک، ادویات اور ایندھن کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے
اگر صنعتی و تجارتی اداروں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کارخانوں اور تجارتی مراکز میں کام کرنے والے صرف غیر ہنر مند محنت کش ہی نہیں بلکہ تکنیکی بنیادوں پر کام کرنے والے ہنر مند اور اعلیٰ ہنر مند کارکن بھی معاشی ناہمواری کا شکار ہیں
جب تک قانون کے مطابق تمام زمروں کی اجرتوں کو الگ الگ اور واضح طور پر نوٹیفائی نہیں کیا جاتا، آجر اور فیکٹری مالکان ان کی تنخواہوں میں جائز اضافے سے گریز کرتے رہتے ہیں۔
اسی طرح وہ معمر اور ریٹائرڈ محنت کش جنہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اور جوانی ملک و قوم کے صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں صرف کر دیں، آج پنشن کے نام پر انتہائی قلیل رقم پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے بڑھاپے کے اس نازک مرحلے پر پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے معقول اضافہ نہ کرنا انسانی حقوق اور سماجی تحفظ کی فراہم کاری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
موجودہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متحدہ لیبر فیڈریشن پنجاب، ٹیکسٹائل، پاور لومز اینڈ گارمنٹس ورکرز فیڈریشن، اور پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن سمیت صوبے کی نمائندہ مزدور تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک واضح اور جامع موقف اختیار کیا ہے۔ محنت کش رہنماؤں کا کہنا ہے کہ محنت کش طبقہ اب مزید کسی غفلت یا تاخیری حربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے چیئرمین کم از کم اجرتی بورڈ پنجاب کو فوری ہدایات جاری کریں تا کہ وہ بلا تاخیر تمام زمروں کے لیے اجرتوں میں اضافے اور کم از کم اجرت کے قانون 2019 پر مکمل اور سخت عملدرآمد کے لیے جامع سفارشات کی حتمی منظوری دیں
وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ای او بی آئی اور دیگر ذرائع سے دی جانے والی پینشن کی شرح کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے موجودہ مہنگائی کی شرح سے ہم آہنگ کرے۔
اگر حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری اور قانونی تقاضوں کی تکمیل میں مزید تذبذب دکھایا گیا تو مزدور تنظیمیں باہمی مشاورتی اجلاس کے ذریعے احتجاجی تحریک کا باضابطہ اعلان کرنے اور عدالتی چارہ جوئی کی راہ اپنانے پر مجبور ہوں گی
صنعتی امن اور پیداواری عمل کا تسلسل صرف اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ریاست اپنے محنت کشوں کے معاشی و قانونی حقوق کی پاسداری یقینی بنائے
تعارف : محمد سرور بابا پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن کے لاہور ریجن کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں پاکستان کی مزدور تحریک کی ایک ممتاز اور فعال شخصیت ہیں، جو ملک بھر میں صنعتی و کمرشل شعبے میں کام کرنے والے محنت کشوں کے حقوق، سماجی تحفظ اور منصفانہ اجرت کے لیے مسلسل کوشاں ہیں فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل اور دیگر مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں ورکرز کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کی پاسداری کرتے ہیں۔
