اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
توانائی بچت پالیسی محنت کشوں کے گلے کا پھندا بن گئی
رپورٹ ( زمان سیف، نمائندہ لیبر نیوز ساوتھ پنجاب )
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں توانائی کی بچت کے نام پر نافذ کی جانے والی سخت پالیسیوں اور کاروباری اوقات کار کی بندش نے ریٹیل اور فوڈ انڈسٹری کو شدید معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے
اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اشتراک سے پاکستان میں ریٹیل کا مستقبل کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطح کا سیمینار منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے ممتاز کاروباری رہنماؤں، تاجر تنظیموں کے نمائندوں اور ریٹیل سیکٹر کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی
سیمینار میں جہاں ایک طرف کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا وہاں دوسری طرف حکومتِ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور ریسٹورنٹ کے اوقات کار میں دی گئی عبوری رعایت میں یکم جون کے بعد بھی لازمی توسیع کی جائے
سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایل سی سی آئی کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے تاجر برادری کے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے حکومتِ پنجاب کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ ریٹیل اور فوڈ سیکٹر ملکی معیشت میں روزگار کی فراہمی اور روزمرہ کی معاشی سرگرمیوں کو متحرک رکھنے کا سب سے بڑا اور بنیادی ذریعہ ہیں۔ توانائی کی بچت کی یکطرفہ اور سخت پالیسیوں نے ان دونوں شعبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے
صدر ایل سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ حکومت یکم جون 2026 کو ختم ہونے والی رعایت کو فوری طور پر آگے بڑھائے، کیونکہ رات گئے تک کاروبار بند کرنے کی پابندی سے سیلز میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، جس سے ہزاروں دیہاڑی دار مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملکی بقا اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ‘توانائی کی بچت’ اور ‘کاروباری پہیے کی روانی’ میں ایک منصفانہ توازن پیدا کیا جائے، اور انتظامیہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کے بجائے تاجروں کی مشاورت سے ایک پائیدار اور طویل مدتی پالیسی وضع کرے
سیمینار کے دوسرے سیشن میں ماہرینِ معاشیات اور مارکیٹنگ گرووز نے پاکستان میں ریٹیل انڈسٹری کے بدلتے ہوئے رجحانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ صدر فہیم الرحمان سہگل نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ اگر انہیں موجودہ سخت معاشی ماحول اور عالمی مسابقت میں زندہ رہنا ہے، تو روایتی طریقوں کو خیرباد کہہ کر ڈیجیٹل تبدیلی اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو اپنانا ہوگا
مقررین نے سیمینار کے دوران درج ذیل اہم معاشی و تکنیکی حل تجویز کیے جن میں موجودہ دور میں صرف دکان یا شو روم پر انحصار کرنا ممکن نہیں رہا۔ تاجروں کو اپنی فزیکل دکانوں کے ساتھ ساتھ ای کامرس پلیٹ فارمز بھی قائم کرنے ہوں گے تاکہ گاہک چوبیس گھنٹے خریداری کر سکیں
ملک میں راست اور دیگر ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کے فروغ کے باعث ریٹیلرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ نقد لین دین کے بجائے کارڈ اور موبائل والٹ ٹیکنالوجی کو اپنائیں، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سیلز کا ڈیٹا بھی دستاویزی شکل میں آئے گا
کارخانوں سے لے کر آخری صارف تک مال کی ترسیل کے نظام کو جدید سافٹ ویئرز اور ٹیکنالوجی کی مدد سے تیز رفتار اور سستا بنانا ناگزیر ہو چکا ہے
سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی تاجر برادری ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ حکومت بھی تاجر دشمن پالیسیوں سے گریز کرے۔
صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ بجلی کے بھاری نرخوں اور اوور بلنگ نے پہلے ہی لاگتِ کاروبار کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، ایسے میں دکانوں اور ریسٹورنٹس کو زبردستی جلد بند کروانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔
لاہور چیمبر نے واضح کیا کہ اگر یکم جون کے بعد اوقاتِ کار میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو صوبے بھر کی تاجر تنظیمیں اپنے کاروبار کے تحفظ کے لیے سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گی
