پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
گلوبل فیشن برانڈز میں مزدوروں کے حقوق کی سنگین پامالی کا انکشافات
رپورٹ ( سلمان جاوید ، ہیڈ لیبر نیوز ساوتھ ایشاء ڈیسک )
دنیا بھر میں پائیدار فیشن اور ماحول دوستی کے نام پر کپڑوں کی ری سائیکلنگ کرنے والے بین الاقوامی برانڈز کے پسِ پردہ جنوبی ایشیا کے محنت کشوں کا شدید استحصال جاری ہے۔
انسانی و مزدور حقوق کی معروف تنظیم اریسا کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں فیشن برانڈز کے ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ کے منصوبے مزدوروں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور صحت کے شدید خطرات سے جڑے ہوئے ہیں
رپورٹ نے ماحول دوستی کا دعویٰ کرنے والے نامور عالمی برانڈز کی سپلائی چین کی شفافیت پر بڑے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں مغربی ممالک سے ری سائیکلنگ کے لیے بھیجے جانے والے پرانے کپڑوں، کترنوں اور دیگر ٹیکسٹائل فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال دھاگے یا مصنوعات میں تبدیل کرنے کا زیادہ تر کام بھارت اور پاکستان کے غیر رسمی شعبوں میں ہوتا ہے
ان دونوں ممالک کے ری سائیکلنگ پلانٹس اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں دیہاڑی دار محنت کش، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے
بدترین حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان مزدوروں کو نہ تو قانونی طور پر مقررہ کم از کم اجرت دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ طبقہ شدید معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔
تحقیقات میں صحت اور حفاظت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ری سائیکلنگ کے عمل کے دوران کپڑوں کی چھانٹی، کٹائی اور کیمیکل پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والے زہریلے گرد و غبار اور کیمیکلز سے بچاؤ کے لیے مزدوروں کو ماسک، دستانے یا دیگر حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جاتا
اس کے نتیجے میں ان مراکز میں کام کرنے والے بیشتر ورکرز سانس کی دائمی بیماریوں، پھیپھڑوں کے انفیکشن، جلد کے امراض اور بینائی کی کمزوری جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
مزید برآں کام کے طویل گھنٹے اور فیکٹریوں میں ہوا کی آمد و رفت کا ناقص نظام ان کے لیے ماحول کو مزید جان لیوا بنا دیتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ری سائیکلنگ کے ان مراکز میں ٹریڈ یونینز بنانے یا اجتماعی سودا کاری کا کوئی تصور موجود نہیں ہے اگر کوئی مزدور اپنے حقوق یا اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو اسے فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا جاتا ہے
اریسا نے فیشن برانڈز پر زور دیا ہے کہ وہ صرف اپنے گرین امیج کو چمکانے کے بجائے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سپلائی چین میں شامل تمام محنت کشوں کو انسانی اور لیبر قوانین کے مطابق یکساں حقوق، منصفانہ اجرت اور محفوظ کام کا ماحول میسر ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت نے ان ری سائیکلنگ یونٹس میں لیبر قوانین کے نفاذ کو سخت نہ کیا، تو مستقبل میں ان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو عالمی سطح پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
