June 6, 2026

مچھلیوں کے شکار کے دوران محنت کشوں سے جبری مشقت ، امریکہ عدالت کی رولنگ

 مچھلیوں کے شکار کے دوران محنت کشوں سے جبری مشقت ، امریکہ عدالت کی رولنگ

رپورٹ  ( طیبہ تاثیر، ایڈیٹر لیبر نیوز فارن ڈیسک )

بین الاقوامی سمندری حدود میں مچھلیوں کے شکار کے دوران محنت کشوں کے بے پناہ استحصال اور جبری مشقت کے خلاف امریکی نظامِ عدل سے ایک انتہائی اہم اور دوررس نتائج کا حامل فیصلہ سامنے آیا ہے

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت نے عالمی سطح پر ٹونا مچھلی سپلائی کرنے والی مشہور امریکی کمپنی ‘بمبل بی فوڈز کی جانب سے دائر اخراجِ مقدمہ کی درخواست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کردہ تاریخی سول ہرجانے کے دعوے کو باقاعدہ سماعت کے لیے برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

 قانونی ماہرین اس رولنگ کو کھلے سمندروں میں کارپوریٹ اداروں کے احتساب اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔

یہ تاریخی مقدمہ احمد بنام بمبل بی فوڈز انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے چار غریب ماہی گیروں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ ان محنت کشوں کا مؤقف ہے کہ انہیں بین الاقوامی سمندروں میں ٹونا مچھلی کا شکار کرنے والے تائیوانی اور چینی بحری جہازوں  پر ملازمت کا جھانسا دے کر بدترین حالات کا شکار کیا گیا

انڈونیشیائی ماہی گیروں کو سمندر کے بیچوں بیچ جہازوں پر محصور کر کے روزانہ 18 گھنٹے تک سخت بیگار لینے، بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے، پینے کے صاف پانی اور طبی سہولیات سے محروم رکھنے اور بعد ازاں ان کی تنخواہیں چوری کرنے جیسے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا

چونکہ ان جہازوں سے پکڑی جانے والی ٹونا مچھلی براہِ راست امریکی کمپنی ‘بمبل بی’ کی سپلائی چین کا حصہ بنتی تھی، اس لیے متاثرہ مزدوروں نے کیلیفورنیا کی عدالت میں ‘ٹریفکنگ وکٹمز پروٹیکشن ری ایکٹ کے تحت کمپنی کو فریق بنایا

امریکی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں کمپنی کے ان دلائل کو مسترد کر دیا کہ وہ سپلائی چین کے نچلے مہرے پر ہونے والے جرائم کی ذمہ دار نہیں ہے

عدالت نے رولنگ دی کہ بمبل بی فوڈز اس مجرمانہ سپلائی چین اور ماہی گیروں کے بدترین استحصال سے براہِ راست مالی منافع کما رہی تھی، اور دستیاب شواہد کے مطابق کمپنی ان جرائم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے بالکل لاعلم نہیں ہو سکتی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ عالمی کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنی ہوگی

اگرچہ عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر کمپنی کے خلاف فوری حکمِ امتناع  جاری کرنے اور مستقبل کی درآمدات روکنے کی استدعا فی الحال مسترد کر دی ہے، تاہم سول ہرجانے کے مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت دینا ہی ایک بڑی قانونی فتح ہے۔

 بین الاقوامی مبصرین اور لیبر رائٹس تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کیس دنیا بھر کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ایک سخت وارننگ ہے کہ وہ پسماندہ ممالک کے محنت کشوں کے خون پسینے پر منافع خوری بند کریں۔

 یہ رولنگ اس بات کی نئی نظیر قائم کرے گی کہ کھلے سمندروں میں، جہاں کوئی روایتی ملکی قانون نافذ نہیں ہوتا، وہاں بھی اگر کسی مزدور کا معاشی و جسمانی استحصال ہوا تو اس کی تاریں ہلانے والے بڑے کارپوریٹ مگرمچھوں کو امریکی عدالتوں کے کٹہرے میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp