June 6, 2026

ملائیشیا میں مزدور اجرتوں کا گرتا ہوا نظام

 ملائیشیا میں مزدور اجرتوں کا گرتا ہوا نظام

رپورٹ ( حامد ریاض ، نمائندہ لیبر نیوز ملائیشیاء )

ملائیشیا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے اس دور میں محنت کشوں کے حقوق اور اجرتوں کے حوالے سے ایک نیا بحث چھڑ گئی ہے ملکی اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کی حالیہ رپورٹس کے مطابق ملائیشیا میں مزدوروں کی کم از کم اجرت کی حد میں ہونے والا اضافہ موجودہ دور کی تلخ معاشی حقیقتوں اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے مقابلے میں انتہائی ناگزیر اور نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث کروڑوں محنت کش خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

لیبر ماہرین اور سماجی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ تجزیوں کے مطابق، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کا موجودہ ڈھانچہ ملازمین کو ایک باوقار زندگی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے

اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ کاغذی کارروائی کی حد تک اجرتوں میں معمولی سا اضافہ کیا جاتا ہے، لیکن مارکیٹ میں اشیاءِ خوردونوش، رہائش، علاج اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات اس رفتار سے بڑھے ہیں کہ یہ معمولی اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف بن کر رہ گیا ہے

اس صورتحال نے ملک کے صنعتی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کام کرنے والے مقامی اور تارکینِ وطن مزدوروں کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا ہے۔

کاروباری مالکان اور صنعتی تنظیموں کا روایتی مؤقف ہے کہ اگر کم از کم اجرتوں میں یکمشت یا بڑا اضافہ کیا گیا تو اس سے کمپنیوں کے پیداواری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ملائیشیا کی عالمی تجارتی مارکیٹ میں معاشی مسابقت کمزور پڑ سکتی ہے

ملائشیاء کے صنعت کاروں کا دعویٰ ہے کہ کووڈ کے بعد ابھرنے والی معیشت ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی ہے، اس لیے اجرتوں کو زبردستی بڑھانے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار  بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا حتمی نقصان بے روزگاری کی صورت میں مزدوروں کو ہی اٹھانا پڑے گا

تاہم، ٹریڈ یونینز اور معاشی تجزیہ کاروں نے اس کارپوریٹ مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محنت کشوں کا معاشی استحصال برقرار رکھنے کا بہانہ قرار دیا ہے

یونین قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں ‘زندہ رہنے کے لیے مروجہ اجرت کا تصور لاگو نہیں کیا جاتا، تب تک معاشی ترقی کے ثمرات نچلے طبقے تک نہیں پہنچ سکتے

انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرے جو مہنگائی کے حقیقی تناسب سے اجرتوں کا ازسرِنو تعین کرے اور لیبر قوانین کے سخت نفاذ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی کمپنی اپنے ملازمین کو بنیادی انسانی ضروریات سے کم اجرت دینے کی مجاز نہ ہو۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp