June 6, 2026

دنیا بھر میں محنت کش ٹریڈ یونینز پر کریک ڈاؤن میں ہولناک اضافہ

 دنیا بھر میں محنت کش ٹریڈ یونینز پر کریک ڈاؤن میں ہولناک اضافہ

رپورٹ، ( زمان سیف، نمائندہ لیبر نیوز ساوتھ پاکستان )

 انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن  کی جانب سے جاری کردہ سالانہ ‘گلوبل رائٹس انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ نے دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کی دگرگوں صورتحال اور جمہوریت کے دعوے دار ممالک کے چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔

رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر حکومتیں اور بڑے کارپوریٹ ادارے محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر خطوں میں ٹریڈ یونینز، مزدور رہنماؤں اور بنیادی لیبر قوانین کے خلاف ایک منظم اور گہرا کریک ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے محنت کش طبقے کو شدید معاشی و قانونی بے بسی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 85 فیصد سے زائد ممالک میں کارکنوں کے ہڑتال کرنے یا پرامن احتجاج کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کارپوریٹ مالکان اور حکومتوں کے گٹھ جوڑ نے مزدوروں کے سب سے اہم ہتھیار یعنی اجتماعی سودا کاری کے حق کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے

جس کے باعث مہنگائی کے اس دور میں مزدور اپنے لیے منصفانہ اجرت کا مطالبہ کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ انڈیکس میں واضح کیا گیا ہے کہ جمہوری کہلانے والے ممالک میں بھی ایسے قانون متعارف کروائے جا رہے ہیں جو یونین سازی کے عمل کو مشکل یا بالکل ناممکن بنا دیتے ہیں، تاکہ سرمایہ داروں کے منافع کو تحفظ دیا جا سکے

سب سے تشویشناک صورتحال مزدور رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور انتقامی کارروائیوں کی ہے۔

 سالانہ انڈیکس کے مطابق، متعدد ممالک میں یونین اراکین کو ہراساں کرنے، ملازمتوں سے بلاوجہ فارغ کرنے، جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور پرامن احتجاج کے دوران پولیس تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کئی خطوں میں مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان پر قاتلانہ حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے پسماندہ خطوں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے جہاں لیبر قوانین کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے اور فیکٹری مالکان مزدوروں کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھتے ہیں۔

گلوبل رائٹس انڈیکس نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

 آئی ٹی یو سی نے حکومتوں کو انتباہ کیا ہے کہ ٹریڈ یونینز پر کریک ڈاؤن اور مزدوروں کا معاشی استحصال نہ صرف جمہوریت کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر امن و امان کے شدید مسائل اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کارپوریٹ اداروں کی من مانیوں کو لگام دی جائے، تمام ممالک میں آئی ایل او کے قوانین کے مطابق یونین سازی کی آزادی بحال کی جائے اور محنت کشوں کو ایک محفوظ، باوقار اور منصفانہ کام کا ماحول فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اصلاحات نافذ کی جائیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp