June 5, 2026

شدید معاشی و موسمیاتی چیلنجز کے باعث آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم، کروڑوں ڈالر نقصان کا خدشہ

 شدید معاشی و موسمیاتی چیلنجز کے باعث آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم، کروڑوں ڈالر نقصان کا خدشہ

کراچی( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )  پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی تناؤ، مال برداری کے اخراجات، موسمیاتی تبدیلیوں اور پیداوار میں کمی کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق، علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے، جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔

ان چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے گھٹا کر اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔ ہدف میں اس بڑی کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑے گا

 گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمد سے 110 ملین ڈالر کمائے تھے، لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر محض 75 سے 80 ملین امریکی ڈالر تک رہنے کا تخمینہ ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp