پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
واشنگٹن کا جبری مشقت کے خلاف سخت اقدام پاکسان پر اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز
رپورٹ ( عظمی سلطان، ہیڈ لیبر نیوز فارن ڈیسک )
عالمی تجارتی مارکیٹ میں اس وقت شدید تناؤ اور ہلچل پیدا ہو گئی ہے جب امریکہ نے بین الاقوامی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک نئی اور متنازع تجویز پیش کی ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ اس نئی تجارتی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان، بھارت اور چین سمیت دنیا کی تقریباً 60 معیشتوں پر بھاری درآمدی ٹیرف لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ کا الزام ہے کہ یہ ممالک اپنی سرحدوں کے اندر ایسی مصنوعات اور خام مال کی آمد کو روکنے میں ناکام رہے ہیں جن کی تیاری میں جبری یا بندھوا مزدوری کا استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی محکمہ تجارت اور یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو کے مطابق یہ منصوبہ فی الحال زیرِ غور ہے لیکن یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عالمی تجارتی قوانین کو اپنے حق میں تبدیل کرنے اور سخت نفاذ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے
امریکہ نے یہ قدم اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں بشمول چین، یورپی یونین اور جاپان کے خلاف کی جانے والی طویل تحقیقات کے بعد اٹھایا ہے۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا متعلقہ حکومتیں جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء پر پابندی کے قوانین پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کر رہی ہیں یا نہیں، اور کیا ان مصنوعات کی سستی درآمد سے امریکی ورکرز اور مقامی مارکیٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
یو ایس ٹی آر جیمی سن گریر نے ان تحقیقاتی نتائج کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور مقامی قوانین اور ناقص نگرانی کی وجہ سے جبری مشقت سے تیار کردہ سامان عالمی سپلائی چین میں شامل ہو جاتا ہے جس سے امریکی محنت کشوں کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا ہوتا ہے
انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی شراکت داروں کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ان کی تجارت کسی بھی سطح پر جبری مشقت کی پشت پناہی نہ کرے۔ اس منصوبے کے تحت متاثرہ ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز دی گئی ہے
تاہم اس حتمی فیصلے سے قبل عوامی رائے اور اعتراضات کے لیے 6 جولائی تک کا وقت دیا گیا ہے، جس کے بعد باقاعدہ سماعتیں کی جائیں گی۔ اس قانون میں گائے کے گوشت، کافی اور مخصوص پھلوں سمیت کینیڈا اور میکسیکو کی چند مصنوعات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان کے حوالے سے یہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ ملک میں بالخصوص صوبہ سندھ اور پنجاب میں جبری اور بندھوا مشقت ایک طویل عرصے سے ایک بڑا سماجی اور معاشی مسئلہ بنی ہوئی ہے
پاکستان میں لاکھوں افراد، جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، اینٹوں کے بھٹوں، زراعت، قالین بافی اور کان کنی کے شعبوں میں نسل در نسل قرضوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ محنت کش انتہائی خطرناک ماحول میں نقل و حرکت کی آزادی کے بغیر اور بنیادی حقوق سے محرومی کے ساتھ برائے نام اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بندھوا مزدوری کے خلاف قوانین کی موجودگی کے باوجود کمزور نفاذ، غربت اور متبادل روزگار کی عدم دستیابی کے باعث یہ استحصال جاری ہے اور اب امریکی ٹیرف کی اس نئی تلوار سے پاکستان کی برآمدات اور ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
