پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
قومی آمدنی سے مزدوروں کے حصے میں مسلسل کمی
رپورٹ، ( شمائلہ عمر ، نمائندہ لیبر نیوز برطانیہ )
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے کئی دہائیوں تک عالمی معیشت میں یہ اصول مروجہ رہا کہ جیسے جیسے ملکی پیداوار اور کارپوریٹ منافع بڑھتا ہے، ویسے ہی محنت کش طبقے کی اجرتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم سینٹر فار اکانومک پالیسی ریسرچ کے تحقیقی فورم ووکس ای یو پر شائع ہونے والی ایک حالیہ علمی و معاشی رپورٹ نے اس مفروضے کو غلط ثابت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں قومی آمدنی میں مزدوروں کے حصے میں مسلسل اور تاریخی کمی واقع ہو رہی ہے،
جبکہ کارپوریٹ منافع کا گراف تیزی سے اوپر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر بحرِ اوقیانوس کے دونوں پار ٹرانس اٹلانٹک ڈیوائیڈ یعنی امریکہ اور یورپی یونین کے مابین معاشی ڈھانچے کی ایک بڑی خلیج بھی واضح ہو کر سامنے آئی ہے
معاشی تجزیہ کاروں کی اس تحقیق کے مطابق گذشتہ چند دہائیوں کے دوران مجموعی ملکی پیداوار میں سے بطور معاوضہ یا اجرت مزدوروں کی جیب میں جانے والا حصہ سکڑ گیا ہے،
جبکہ سرمایہ داروں اور کمپنیوں کے منافع کا حصہ غیر معمولی حد تک بڑھا ہے اس ٹرینڈ کی سب سے بڑی وجہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، آٹومیشن اور گلوبلائزیشن کو قرار دیا گیا ہے
جس نے روایتی ملازمتوں کو ختم کر کے مشینوں پر انحصار بڑھا دیا ہے اور محنت کشوں کی اجتماعی سودا کاری کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے اس عمل نے دنیا بھر میں امیر اور غریب کے مابین معاشی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے
رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ اس گراوٹ کے باوجود امریکہ اور یورپ کے مابین ایک واضح معاشی تقسیم اور فرق موجود ہے۔ امریکہ میں مزدوروں کے حصے میں کمی کا رجحان زیادہ جارحانہ اور تیز رہا ہے، کیونکہ وہاں کی مارکیٹ انتہائی آزاد ہے
جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اجارہ داریوں کو کارپوریٹ منافع بڑھانے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے، جس کے نتیجے میں وہاں یونین سازی کی شرح کم اور مزدوروں کا معاشی تحفظ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، یورپی یونین کے ممالک بشمول جرمنی اور فرانس میں اگرچہ مزدوروں کے حصے میں کمی تو آئی ہے
لیکن وہاں مضبوط سوشل ویلفیئر سسٹم، لیبر مارکیٹ کے سخت قوانین اور ٹریڈ یونینز کے فعال کردار کی وجہ سے محنت کش طبقہ اب بھی امریکی ورکرز کے مقابلے میں قومی آمدنی کا بہتر حصہ حاصل کر رہا ہے اور معاشی جھٹکوں سے کسی حد تک محفوظ ہے
رپورٹ کے آخر میں معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قومی آمدنی میں محنت کشوں کے حصے کا مسلسل گرنا اور دولت کا چند کارپوریٹ ہاتھوں میں سمٹ جانا طویل مدتی عالمی معاشی استحصال اور سماجی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے
ماہرین نے سفارش کی ہے کہ حکومتوں کو صرف جی ڈی پی کی شرحِ نمو دیکھنے کے بجائے ایسی ٹیکس پالیسیاں اور لیبر اصلاحات متعارف کروانی چاہئیں جو کارپوریٹ منافع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جب تک مزدوروں کی اجرتوں کو حقیقی پیداواری صلاحیت سے دوبارہ نہیں جوڑا جاتا اور ٹیکنالوجی کے دور میں افرادی قوت کی دوبارہ تربیت پر سرمایہ کاری نہیں کی جاتی، تب تک عالمی سطح پر معاشی عدم مساوات کی اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پُر کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
