April 17, 2026

عالمی مزدور تحریکوں کا نیا رخ

 عالمی مزدور تحریکوں کا نیا رخ

رپورٹ ( عبدالقیوم، گروپ ایڈیٹر لیبر نیوز )

دنیا بھر میں محنت کشوں کی جدوجہد اب محض مقامی فیکٹریوں یا شہروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے تار ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔

مختلف براعظموں میں جاری مزدور تحریکیں اب ایک مشترکہ مقصد یعنی سماجی انصاف اور انسانی وقار کے لیے یکجا ہو رہی ہیں

ماضی کی مزدور تحریکیں زیادہ تر صنعتی ڈھانچوں کے گرد گھومتی تھیں لیکن آج کی جدوجہد میں تنوع پیدا ہو چکا ہے

جنوبی ایشیا کے کھیتوں سے لے کر لاطینی امریکہ کی کانوں اور یورپ کے جدید ٹیکنالوجی کے مراکز تک محنت کشوں کے مسائل اگرچہ مختلف ہیں

 لیکن ان کا دشمن ایک ہی ہے اور وہ ہے بے لگام کارپوریٹ طاقت اب مزدور صرف اجرت میں اضافے کا مطالبہ نہیں کر رہے،

بلکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں صنفی برابری اور نسلی امتیاز جیسے وسیع تر سماجی موضوعات کو بھی اپنی تحریک کا حصہ بنا رہے ہیں

محنت کشوں کی اس جدوجہد کی داستان میں ایک اہم موڑ گگ اکانومی کا ابھار ہے فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز، اوبر ڈرائیورز اور فری لانسرز، جنہیں طویل عرصے تک مزدور تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا رہا اب عالمی سطح پر منظم ہو رہے ہیں

 ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جہاں استحصال کے نئے طریقے پیدا کیے ہیں، وہاں محنت کشوں کو ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔

آج ایک ملک میں ہونے والی کامیاب ہڑتال کی بازگشت دوسرے ملک کے محنت کشوں کے لیے ہمت اور رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے

گلوبل ساؤتھ یعنی ترقی پذیر ممالک کے محنت کشوں کے کردار کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت، نیپال کے تعمیراتی مزدور اور افریقہ کے کان کن اب اپنی آواز عالمی مالیاتی اداروں تک پہنچا رہے ہیں

یہ عالمی محنت کش مطالبہ کر رہے ہیں کہ عالمی سپلائی چین میں ان کی محنت کا معاوضہ صرف اتنا نہ ہو کہ وہ زندہ رہ سکیں، بلکہ انہیں ایک باوقار زندگی گزارنے کا حق بھی ملنا چاہیے

اس وقت دنیا بھر کی ٹریڈ یونینز کے درمیان تعاون کی ایک ایسی لہر دیکھی جا رہی ہے جو پہلے کبھی موجود نہیں تھی کثیر القومی کمپنیوں کے خلاف مشترکہ قانونی چارہ جوئی اور سرحدوں سے ماورا احتجاجی مہمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اب کمزور پڑ رہی ہے

عالمی لیبر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مربوط جدوجہد مستقبل کی عالمی معیشت کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

محنت کشوں کی یہ جدوجہد کی داستان اب کسی ایک ملک یا طبقے کی میراث نہیں رہی۔ یہ ان تمام انسانوں کی مشترکہ آواز بن چکی ہے جو معاشی نظام میں اپنی منصفانہ جگہ چاہتے ہیں

اگرچہ چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے لیکن محنت کشوں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ عالمی یکجہتی اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے وقت میں اقتدار کا توازن عوامی مفاد کی طرف جھک سکتا ہے وقت آ گیا ہے کہ عالمی طاقتیں اس بدلتی ہوئی حقیقت کو تسلیم کریں اور محنت کشوں کو ان کا جائز مقام فراہم کریں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp