April 17, 2026

نیپال میں محنت کش اجرتوں میں عدم مساوات کا سنگین بحران

 نیپال میں محنت کش اجرتوں میں عدم مساوات کا سنگین بحران

رپورٹ ( سلمان جاوید ، ہیڈ ساوتھ ایشن ڈیسک )

نیپال کی معیشت کا پہیہ گھمانے میں غیر رسمی شعبے سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے لیکن اس کے باوجود یہ طبقہ آج بھی معاشی ناانصافی، کم اجرت اور سماجی تحفظ کے فقدان کی تصویر بنا ہوا ہے

راٹو پاٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نیپال میں تعمیراتی کاموں، زراعت اور گھریلو صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حالتِ زار یہ ثابت کرتی ہے کہ لیبر قوانین اور حکومتی دعووں کے باوجود زمین پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو اجرتوں میں پایا جانے والا صنفی فرق ہے۔ نیپال کے غیر رسمی شعبے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے، لیکن انہیں اسی کام کے لیے مردوں کے مقابلے میں کہیں کم معاوضہ دیا جاتا ہے

اگرچہ نیپال کے آئین اور لیبر ایکٹ میں مساوی کام کے لیے مساوی اجرت کا قانون موجود ہے، لیکن نجی ٹھیکیدار اور زمیندار ان قوانین کو پیروں تلے روند رہے ہیں

خواتین محنت کشوں کا کہنا ہے کہ وہ مردوں کے برابر یا ان سے زیادہ گھنٹے کام کرتی ہیں، مگر دن کے اختتام پر ان کے ہاتھ آنے والی رقم ان کی محنت کا مذاق اڑاتی محسوس ہوتی ہے۔

نیپالی حکومت نے ملک میں کم از کم اجرت کی حد مقرر کر رکھی ہے لیکن غیر رسمی شعبہ کسی ضابطے یا نگرانی کے نظام کے تحت نہیں آتا۔ زیادہ تر مزدور یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور ان کے پاس کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوتا

اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آجر انہیں مقررہ حد سے کم تنخواہ دیتے ہیں۔ جب تک کوئی باضابطہ شکایت درج نہ ہو، حکومتی مشینری حرکت میں نہیں آتی، اور مزدور اس خوف سے شکایت نہیں کرتے کہ انہیں کام سے نکال دیا جائے گا

غیر رسمی شعبے کے محنت کشوں کے پاس نہ تو کوئی میڈیکل انشورنس ہے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد کے لیے کوئی پنشن یا فنڈ۔ بیماری یا حادثے کی صورت میں یہ مزدور مکمل طور پر بے یار و مددگار ہو جاتے ہیں

رپورٹ کے مطابق بہت سے مزدوروں کے پاس رہنے کے لیے مناسب چھت نہیں ہے اور وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ ان کی آمدنی بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کر پاتی ہے۔ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے ان کے مسائل کو دوچند کر دیا ہے

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک نیپال اپنے غیر رسمی شعبے کو دستاویزی شکل میں نہیں لاتا، تب تک یہ استحصال ختم نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یونین سازی کی حوصلہ افزائی کرے اور کام کی جگہوں پر معائنہ کرنے والے انسپکٹرز کی تعداد بڑھائے اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے فنڈز تک ان مزدوروں کی رسائی ممکن بنانا ضروری ہے تاکہ وہ معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکیں

نیپال کے محنت کشوں کی یہ حالتِ زار صرف ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک کے غیر رسمی شعبوں کا المیہ ہے۔

 اگر ان لاکھوں انسانوں کو ان کے بنیادی معاشی حقوق اور انسانی وقار فراہم نہ کیا گیا، تو سماجی عدم استحکام کا خطرہ بڑھتا رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون سازی کو محض کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے کھیتوں، فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر نافذ العمل بنایا جائے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp