نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
اوشاوا ہڑتال : کینیڈا میں مزدور تحریک کا وہ موڑ جس نے تاریخ بدل ڈالی
رپورٹ : اسمعیل اثر نمائندہ کینڈا
کینیڈا کی صنعتی تاریخ میں 1937 کی اوشاوا ہڑتال کو ایک ایسے سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے جس نے نہ صرف محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کو نئی سمت دی بلکہ ملک میں انڈسٹریل یونینزم کی بنیاد بھی رکھی۔
یہ وہ معرکہ تھا جہاں ایک طرف طاقتور کارپوریٹ ادارہ اور ریاستی مشینری تھی، تو دوسری طرف اپنے حقوق کے لیے سینہ تان کر کھڑے ہزاروں نہتے مزدور
یہ ہڑتال 8 اپریل 1937 کو اونٹاریو کے شہر اوشاوا میں جنرل موٹرز کے کارخانے سے شروع ہوئی۔ اس وقت کینیڈا شدید معاشی بدحالی کے اثرات سے گزر رہا تھا مزدوروں کے حالاتِ زندگی انتہائی ناگفتہ بہ تھے اجرتیں کم تھیں، کام کے اوقات طویل اور ملازمت کا کوئی تحفظ نہ تھا۔
محنت کشوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ انتظامیہ ان کی نومولود یونین یونائیٹڈ آٹو ورکرز کو تسلیم کرے اور ان کے ساتھ اجتماعی سودے بازی کا آغاز کرے
اوشاوا ہڑتال محض ایک صنعتی تنازع نہیں رہا بلکہ سیاسی میدانِ جنگ بن گیا۔ اونٹاریو کے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ مچل ہیپ برن نے اس ہڑتال کو کینیڈا کے لیے ایک کمیونسٹ خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ کینیڈا میں امریکی طرز کی یونین سازی کی اجازت نہیں دیں گے
جب وفاقی حکومت نے مداخلت سے انکار کیا، تو ہیپ برن نے اپنی ایک الگ پولیس فورس تشکیل دی، جسے عوامی حلقوں میں طنزیہ طور پر ہیپ برن ہسکیزکہا گیا ان کا مقصد ہڑتالی مزدوروں کو ڈرانا اور فیکٹری کا کام زبردستی شروع کروانا تھا، لیکن مزدوروں کے عزم نے تمام حکومتی حربوں کو ناکام بنا دیا
دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس ہڑتال نے شہر کی زندگی مفلوج کر دی۔ جنرل موٹرز کی انتظامیہ جو پہلے کسی صورت مذاکرات پر تیار نہیں تھی پیداوار کی بندش اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے باعث پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی
23 اپریل 1937 کو ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ کیا گیا، کام کے اوقات کار طے ہوئے اور سینارٹی کے نظام کو تسلیم کیا گیا۔ اگرچہ باضابطہ طور پر کا نام معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن عملاً یہ یونین کی ایک بڑی فتح تھی کیونکہ کمپنی نے مزدوروں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔
اوشاوا ہڑتال نے کینیڈا میں مزدور تحریک کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس کامیابی نے کینیڈا بھر کے محنت کشوں میں یہ حوصلہ پیدا کیا کہ وہ منظم ہو کر بڑے سے بڑے ادارے کا مقابلہ کر سکتے ہیں
اس واقعے کے بعد کینیڈا میں سٹیل، کان کنی اور دیگر بڑی صنعتوں میں یونین سازی کی لہر دوڑ گئی، جس نے بالآخر جدید لیبر قوانین اور سوشل سیکیورٹی کے نظام کی راہ ہموار کی۔
آج بھی کینیڈا کے مورخین اس ہڑتال کو ایک ایسا واقعہ قرار دیتے ہیں جس نے کینیڈا کو ایک زیادہ منصفانہ اور جمہوری معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا
اوشاوا کی سڑکوں پر لڑی جانے والی یہ جنگ صرف تنخواہ میں اضافے کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ انسانی وقار اور حقوق کی تسلیم کی جنگ تھی، جس کی گونج آج بھی کینیڈا کی لیبر سیاست میں سنائی دیتی ہے
