April 17, 2026

اٹلی میں غلامی کا نظام: تارکینِ وطن مزدوروں کے بدترین حالات

 اٹلی میں غلامی کا نظام: تارکینِ وطن مزدوروں کے بدترین حالات

رپورٹ ( عظمی سلطان، ہیڈ لیبر نیوز فارن ڈیسک )

یورپ کے قلب میں واقع اٹلی جو اپنے بہترین کھانوں اور زرعی مصنوعات کے لیے مشہور ہے، ایک ایسی تاریک حقیقت چھپائے ہوئے ہے جسے دنیا جانتی تو ہے مگر نظر انداز کر دیتی ہے

ہسپانوی تھنک ٹینک سی آئی ڈی او بی کی حالیہ رپورٹ نے اٹلی کے زرعی شعبے میں کام کرنے والے تارکینِ وطن محنت کشوں کے بدترین حالاتِ زندگی اور ان کے معاشی استحصال کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

استحصال کا قانونی اور غیر قانونی ڈھانچہ میں اٹلی کی زراعت کا ایک بڑا حصہ ان تارکینِ وطن کے مرہونِ منت ہے جو افریقہ، ایشیا اور مشرقی یورپ سے بہتر مستقبل کی آس میں یہاں پہنچتے ہیں

 تاہم یہاں انہیں کاپورالٹو نامی ایک ایسے نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ماہرین جدید غلامی قرار دیتے ہیں اس نظام میں غیر قانونی ٹھیکیدار مزدوروں اور فارم مالکان کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں لیکن بدلے میں وہ مزدوروں کی اجرت کا بڑا حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگاتے ہیں

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ محنت کش شہروں سے دور الگ تھلگ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ بستیاں اکثر کچی جھونپڑیوں پر مشتمل ہوتی ہیں

جہاں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی بجلی یا نکاسیِ آب کا کوئی انتظام کئی علاقوں میں مزدوروں کو پلاسٹک کی شیٹوں اور لکڑی کے تختوں سے بنے عارضی کمروں میں رکھا جاتا ہے جہاں سردی اور گرمی سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

ان مزدوروں سے روزانہ 10 سے 12 گھنٹے سخت جسمانی مشقت لی جاتی ہے، لیکن انہیں ملنے والی اجرت قانونی کم از کم تنخواہ سے کہیں کم ہوتی ہے بہت سے ورکرز کو فی گھنٹہ کے بجائے جتنا کام اتنے پیسے پر رکھا جاتا ہے

جس کی وجہ سے وہ اپنی صحت کی پرواہ کیے بغیر زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں زرعی ادویات اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کے دوران حفاظتی کٹ کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ مزدور سانس اور جلد کی سنگین بیماریوں کا بھی شکار ہو رہے ہیں

حکومتی خاموشی اور عالمی سپلائی چین کے تناظر میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اطالوی حکومت اور یورپی یونین کے سخت قوانین کے باوجود یہ استحصال جاری ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اطالوی زراعت کی عالمی منڈی میں سستے داموں مسابقت برقرار رکھنے کی قیمت یہ غریب مزدور چکا رہے ہیں بڑے سپر مارکیٹ چینز اور برآمد کنندگان اکثر اس بات سے چشم پوشی کرتے ہیں کہ ان تک پہنچنے والا پھل اور سبزیاں کن حالات میں اگائی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تارکینِ وطن کو باقاعدہ ورک پرمٹ دیے جائیں تاکہ وہ ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر نہ رہیں اور اپنے حقوق کے لیے ٹریڈ یونینز کا سہارا لے سکیں

جب تک اس استحصالی زنجیر کو نہیں توڑا جاتا، اٹلی کے لہلہاتے کھیت ان محنت کشوں کے پسینے اور خون کی کہانی سناتے رہیں گے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp