April 17, 2026

کفالہ نظام تارکین وطن محنت کشوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا

 کفالہ نظام تارکین وطن محنت کشوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا

رپورٹ  ( خنیس الرحمان ، نمائندہ لیبر نیوز مڈل ایسٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعات نے جہاں لاکھوں مقامی افراد کی زندگیوں کو درہم برہم کر دیا ہے، وہاں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس کی پکار اکثر عالمی میڈیا اور سفارتی ایوانوں میں دب کر رہ جاتی ہے

انٹرنیشنل ڈومیسٹک ورکرز فیڈریشن نے اس دردناک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے اگاہ کیا ہے کہ کس طرح لبنان اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والی لاکھوں غیر ملکی محنت کش گھریلو ملازمائیں جو زیادہ تر افریقی اور ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتی ہیں اس تنازع کے نتیجے میں دوہرے عذاب کا شکار ہیں

جب کسی علاقے میں بمباری شروع ہوتی ہے یا حالات خراب ہوتے ہیں تو مقامی مالکان محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں ان غیر ملکی ملازمین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے

کچھ مالکان اپنے ساتھ ان محنت کشوں کو لے جانے کے بجائے انہیں بند گھروں میں محصور کر دیتے ہیں، جہاں ان کے پاس نہ تو کھانے پینے کا سامان ہوتا ہے اور نہ ہی باہر نکلنے کا کوئی راستہ  یہ ترک کیے گئے محنت کش اپنی زندگی بچانے کے لیے کسی بھی قسم کے سرکاری یا نجی تعاون سے محروم ہیں

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں رائج کفالہ نظام ان ملازمین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جنگ کے دوران بھی بہت سے مالکان نے اپنے ملازمین کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں

پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواتین نہ تو محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کر سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے وطن واپس جانے کے لیے ہوائی اڈوں کا رخ کر سکتی ہیں

سفارت خانوں تک رسائی نہ ہونے اور قانونی دستاویزات کی عدم موجودگی نے انہیں ایک ایسے جال میں پھنسا دیا ہے جہاں سے نکلنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے

بحران کی صورتحال میں ان محنت کشوں کے معاشی استحصال میں بھی تیزی آئی ہے۔ بہت سے ملازمین کو مہینوں سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ بینکنگ نظام متاثر ہے یا کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں

کام کے اوقات میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے اور ان خواتین کو بغیر کسی معاوضے کے اضافی کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تناؤ بھرے ماحول میں ان ملازمین پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ گھروں میں موجود غصہ اور مایوسی کا نشانہ اکثر یہ کمزور محنت کش ہی بنتے ہیں۔

آئی ڈی ڈبلیو ایف  کی جنرل سیکرٹری نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان خواتین کے محفوظ انخلا کے لیے کوریڈور تشکیل دیں

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد میں ان تارکینِ وطن محنت کشوں کو بھی شامل کیا جائے، جو کسی بھی ملک کے شہری نہ ہونے کی وجہ سے اکثر امدادی فہرستوں سے غائب رہتے ہیں

مشرقِ وسطیٰ کے جنگی بادلوں کے پیچھے چھپا یہ انسانی المیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی لیبر قوانین اب بھی تارکینِ وطن محنت کشوں کو وہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں جس کے وہ مستحق ہیں

جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ اس کے اثرات ان گھروں کے اندر تک پہنچتے ہیں جہاں کوئی غیر ملکی محنت کش اپنی زندگی کی بقا کی جنگ تنہا لڑ رہی ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان خاموش محنت کش متاثرین کو بھی انسان تسلیم کرتے ہوئے ان کے حقوق کا دفاع کیا جائے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp